.

امریکی اتحادیوں کی الرمادی میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ بہتر گھنٹوں کے دوران عراق کے مغربی شہر الرمادی میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر انیس فضائی حملے کیے ہیں۔

اتحادی فوج کے ترجمان نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحاد نے الرمادی میں عراقی سکیورٹی فورسز کی درخواستوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی فضائی مدد میں اضافہ کردیا ہے۔اتحادی طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں ،فوجی گاڑیوں اور ان کے زیر قبضہ عمارتوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

درایں اثناء صوبہ الانبار میں داعش کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے نام سے نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا جارہا ہے۔ الحشد الشعبی کے ایک ترجمان علی السرائی نے کہا ہے کہ انھیں الانبار کی جانب پیش قدمی کی ہدایات مل گئی ہیں لیکن سکیورٹی وجوہ کی بنا پر تفصیل ظاہر نہیں کی جاسکتی ہیں۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے الرمادی میں شیعہ ملیشیاؤں کو تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس شہر میں اہل سنت کی آبادی کی اکثریت ہے اور حیدرالعبادی قبل ازیں اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے پیش نظر شیعہ ملیشیاؤں کو وہاں بھیجنے کے بارے میں متردد تھے۔

صوبائی گورنر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رمادی میں حالیہ دنوں کے دوران لڑائی کے نتیجے میں قریباً پانچ سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور چھے ہزار سے آٹھ ہزار کے درمیان افراد اپنا گھربار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

داعش نے اتوار کو گذشتہ کئی روز کی لڑائی کے بعد الرمادی پر قبضہ کر لیا تھا اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں سے بھاگ گئے تھے۔عراقی فوج نے گذشتہ سال جون میں جس طرح شمالی شہر موصل کو داعش کی یلغار کے بعد آناً فاناً خالی کیا تھا بالکل اسی انداز میں الرمادی کو بھی خالی کردیا ہے اور داعش کو بآسانی اس شہر پر قبضہ کرنے دیا ہے۔

عراق میں گذشتہ سال اگست میں داعش کے خلاف امریکی فوج کے فضائی حملوں اور عراقی فورسز اور پیراملٹری دستوں کی ان کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد الرمادی پہلا بڑا شہر ہے جس پر داعش نے قبضہ کیا ہے۔انھِیں گذشتہ ماہ شمالی تکریت سے شکست کے بعد پسپا ہونا پڑا تھا اور عراقی فورسز نے شیعہ ملیشیاؤں کی مدد سے اس شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔