.

چار دہائیوں تک کومہ میں رہنے والی بھارتی نرس کا انتقال

ارونا کے ساتھ سنہ 73' میں کے ای ایم ہسپتال کے ایک ملازم نے ریپ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ممبئی کے ایک ہسپتال میں چار دہائیوں تک کوما میں رہنے والی نرس ارونا شانباگ پیر کو 68 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ سنہ 1973 میں کنگز ایڈورڈ میموریئل (کے ای ایم) ہسپتال کے ایک ملازم نے انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

اس واقعے کے دوران ان کے سر پر گہری چوٹ آئی، بینائی جاتی رہی اور کانوں سے سننا بھی کم ہو گیا اور ارونا کے دماغ کو آکسیجن نہ مل پانے کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی تھیں۔

انھیں کے ای ایم ہسپتال میں ہی رکھا گیا تھا اور ہسپتال کے عملے نے ہی ان کی چار دہائیوں تک دیکھ بھال کی کیونکہ ان کے رشتے داروں نے بھی انھیں دیکھنے آنا بند کر دیا تھا۔

کے ای ایم ہسپتال کے ڈیوٹی افسر ڈاکٹر پروین بانگر کے مطابق ’پیر کی صبح بھارتی وقت کے مطابق ساڑھے آٹھ بجے ارونا شانباگ کی موت واقع ہو گئی۔‘ وہ گذشتہ چار دنوں سے وینٹیلیٹر پر تھیں۔ انھیں نمونیا ہو گیا تھا۔

ارونا شانباگ کے ساتھ اسی ہسپتال کے ایک ملازم سوہن لال والمکی نے 42 سال قبل ریپ کیا اور انھیں گلا گھونٹ کر قتل کرنے کی کوشش کی اور بعد میں مردہ سمجھ کر چھوڑ چلا گیا۔

ارونا شانباگ پر کتاب لکھنے والی پنکی ويراني نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی کہ ارونا کو مرسی کلنگ یعنی رحم کی بنیاد پر موت کی اجازت دی جائے۔

اس پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہسپتال کی نرسوں اور سٹاف کی تعریف کی جنھوں نے گذشتہ 42 سالوں سے ارونا کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ان کا اتنا خیال رکھا کہ ارونا کو اتنے برسوں بستر پر لیٹے رہنے کے باوجود ایک بھی زخم نہیں ہوا۔

ہسپتال کی میٹرن ارچنا جادھو نے ایک بار کہا تھا کہ ’ہسپتال کے تمام لوگ ارونا کی خدمت اپنے گھر کے فرد کی طرح کرتے رہے اور کوئی بھی انھیں رحم کی بنیاد پر ابدی نیند سلانے کے حق میں نہیں تھا۔‘