.

کویت :حزب اختلاف کے لیڈر کو دوسال قید کی سزا برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی عدالت عظمیٰ نے حزب اختلاف کے ایک معروف رہ نما کو ریاست کے حکمران کی توہین کی پاداش میں سنائی گئی دو سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔

کویت کی ایک ماتحت عدالت نے پارلیمان کے سابق رکن مسلم البراک کو امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی توہین کا مرتکب قرار دے کر پانچ سال جیل کی سزا سنائی تھی لیکن اپیل عدالت نے یہ سزا کم کرکے دو سال کردی تھی ۔اس وقت وہ ضمانت پر ہیں اور انھیں اب یہ قید کی مدت جیل میں بھگتنا ہوگی۔
اٹھاون سالہ مسلم البراک حزب اختلاف کے سرکردہ رہ نما ہیں اور وہ حکومت کے غیر قانونی اور ماورائے آئین اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔کویت میں کسی حکومت مخالف سرکردہ لیڈر کو اس طرح سزا سنائے جانے کا یہ منفرد واقعہ ہے۔

انھیں فروری میں ایک اپیل عدالت نے امیر کویت کی اتھارٹی کو نقصان پہنچانے کے جرم میں قصوروار قرار دیا تھا۔وہ تب سزا کے طور پر پچاس روز تک جیل میں رہے تھے اور پھر انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔اب عدالت عظمیٰ نے ان کو سنائی گئی دوسال جیل کی سزا برقرار رکھی ہے اور اس کے فیصلے کو چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اس حکم سے مسلم البراک کا سیاسی کیرئیر ختم ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اب پارلیمان کی رکنیت کے لیے انتخاب نہیں لڑسکیں گے۔انھوں نے عدالتی حکم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کو سیاسی محرکات کا حامل قرار دیا ہے۔

انھوں نے فیصلے کے بعد کویت شہر میں اپنی قیام گاہ پر جمع ہونے والے اپنے حامیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلاشبہ پہلے درجے کا سیاسی حکم ہے۔عدالت نے ان کا منصفانہ ٹرائل نہیں کیا ہے اور انھیں اپنا موقف پیش نہیں کرنے دیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''میں اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھوں گا۔میں نے ضمیر کا قیدی بننے کا انتخاب کیا ہے''۔انھوں نے اپنے حامیوں پر زوردیا کہ وہ پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں اور تشدد سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ ان کے خلاف اکتوبر 2012ء میں ہزاروں افراد کی ریلی میں انتخابی قوانین میں تبدیلی کے خلاف تقریر کی بنیاد پر مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابی قانون میں ترمیم سے حکومت انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرسکے گی۔وہ تب پارلیمان کے رکن تھے لیکن ان کی قوم پرست جماعت نے نئے انتخابی قانون کی بنیاد پر دسمبر 2012ء اور پھر جولائی 2013ء میں منعقدہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

کویتی حزب اختلاف نے مسلم البراک کے خلاف عدالتی فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور ایک سابق رکن ولید الطباطبائی نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ اب سیاست دانوں کو جیل میں ڈالنے کے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔

اسلامی جماعت اُمہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم البراک کو جیل کی سزا سے ثابت ہوگیا ہے کہ اب کویت کو ایک نئے آئین کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ کویت کی عدالتوں نے حالیہ مہینوں کے دوران امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی توہین کے الزام میں حزب اختلاف کے دسیوں کارکنان کو جیل کی سزائیں سنائی ہیں۔ان میں سے بہت سوں پر انٹرنیٹ پر امیر کویت کی توہین پر مبنی تحریریں پوسٹ کرنے کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے تھے۔