.

بریگیڈیئرجواس عبدالملک کا کام تمام کرنے کے لیے پرعزم

"حوثیوں کے بانی کو ٹھکانے لگانے والی پستول اس کے جانشین کے لیے تیار"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی فوج کے ایک بریگیڈیئر جنرل ثابت جواس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سنہ 2004ء میں اہل تشیع مسلک کی شدت پسند حوثی ملیشیا کے بانی حسین بدرالدین الحوثی کو ٹھکانے لگایا تھا اور اب ان کا اگلا ہدف حوثیوں کے موجودہ سربراہ عبدالملک الحوثی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک سعودی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں بریگیڈیئر جنرل ثابت جواس نے بتایا کہ جس پستول سے میں نے حسین بدرالدین الحوثی کا کام تمام کیا تھا وہ آج بھی میرے پاس موجود ہے اور میں اسی کے ساتھ اب عبدالملک الحوثی کا قصہ بھی پاک کرنا چاہتا ہوں۔

بریگیڈیئر جواس نے بتایا کہ "یہ سنہ 2004ء کا واقعہ ہے جب میں یمنی فوج میں "مران" کے علاقے کا کمانڈر تھا۔ حسین بدر الدین الحوثی ایک دور افتادہ اور دشوار گذار پہاڑی علاقے میں چھپا ہوا تھا۔ اس تک پہنچنے کے لیے میں کئی باغیوں کو ٹھکانے لگایا۔ حوثیوں کے ساتھ براہ راست لڑائی میں بھی کئی جنگجو قتل کیے اور آخر کار میں بدرالدین الحوثی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ میں نے جس پستول سے بدرالدین الحوثی کو قتل کیا وہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے اور میں اسے اب عبدالملک الحوثی کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے جس پستول نے حسین بدرالدین الحوثی کا کام تمام کیا وہی اب اس کے جانشین کا قصہ پاک کرنے میں بھی کام آئے۔

بریگیڈیئر جواس نے انکشاف کیا کہ جب میں نے حسین بدرالدین الحوثی کو قتل کرڈالا تو اس کی جیپ سے پانچ میٹر ایک طویل تعویز نکلا جسے اپنی جان بچانے کے لیے ڈھال کے طور پر پاس رکھا گیا تھا۔ اس پرعلم نجوم کی کچھ عبارتیں اور چھ کونوں والے ستاروں کی نشان بنائے گئے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح نے سنہ 2004ء میں مجھے صعدہ کی جنگوں کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس وقت علی صالح اور حوثی ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے تھے۔ جنگ کے دوران صنعاء میں جبل نقم میں ایک دوسرے ملک سے لایا گیا اسلحہ بھی پکڑا جسے بوریوں اور تھیلوں میں ڈال کر چھپایا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ میں اس وقت بھی حوثی باغیوں کے خلاف نبرد آزما ہوں اور پانچ ہزار مزاحمتی کارکنوں کے ایک گروپ کی قیادت کر رہا ہوں۔ ہم نے کئی حوثی موت کےگھاٹ اتارے اور بہت سوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے مزاحمت کاروں کو جدید اسلحہ کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔