.

اتحادیوں کی صنعاء میں حوثیوں کے اسلحہ ڈپووں پر بمباری

سعودی سرحد پر بھی حوثی ٹھکانے اتحادی افواج کی بمباری کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سربراہی میں یمنی باغیوں کی سرکوبی کے لئے قائم فوجی اتحاد نے حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی ملیشیائوں کے اسلحہ ڈپووں پر بمباری کی ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق ان فضائی کارروائیوں میں علی صالح کے بیٹے احمد علی صالح کے محل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کاررروائیوں میں یمنی دارالحکومت کو پانچ یوم کی جنگ بندی کے بعد پہلی بار نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ جنگ بندی اقوام متحدہ اور امدادی گروپوں کی جانب سے توسیع کی اپیلوں کے باوجود ختم کر دی گئی۔ یمن میں جاری خانہ جنگی اور تشدد کی لہر کی وجہ سے ڈھائی کروڑ کی آبادی والے اس ملک کے بے بس شہریوں کو امداد کی شدت سے ضرورت ہے۔

حوثی باغی یمن اور سعودی عرب کی سرحد پر واقع قصبات پر گولا باری کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی گزشتہ سات ہفتوں سے حوثی باغیوں اور صالح کی وفادار ملیشیائوں کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں تاکہ جلا وطن صدر عبد ربو منصور ہادی کو اقتدار کی مسند پر دوبارہ بٹھایا جا سکے۔

اس سے پہلے العربیہ نیوز چینل کے جنگی وقائع نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع یمن کی حوثی ملیشیا کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور شدید بمباری کی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے علاقے نجران میں یمنی باغی گروپ اور سعودی نیشنل گارڈز یونٹس کے درمیان پیر کے روز دن بھر فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ فائرنگ کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حوثی ملیشیا نے نجران کی سرحدی پٹی پر ایک سعودی پوسٹ کو نشانہ بنایا۔