.

طالبان کا کابل میں خودکش حملہ، 06 ہلاک

خودکش دھماکا وزارت انصاف کے پارکنگ ایریا میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان دارالحکومت کابل میں وزارت انصاف کے باہر ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ گذشتہ قریب دو ہفتوں کے دوران سخت سکیورٹی والے دارالحکومت کابل میں یہ پانچواں بڑا حملہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ دھماکا وزارت انصاف کی عمارت کے باہر پارکنگ میں ہوا۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھ ہلاکتوں کے علاوہ متعدد دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ کابل پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد وزارت انصاف کے ملازمین تھے۔ حکام کے مطابق کم از کم چوبیس افراد زخمی ہیں اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بمبار اپنی گاڑی کو محافظوں کے ساتھ ٹکراتا ہوا پارکنگ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں حملہ آور بھی شامل ہے جبکہ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا صحافیوں کو ای میل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزارت انصاف کے جج اور پراسیکیوٹرز ’غلام‘ ہیں اور انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک مہینے کے دوران دارالحکومت میں وزارت انصاف کے ملازمین پر ہونے والا یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔ سب سے پہلے چار مئی کو کابل میں اٹارنی جنرل آفس کے سامنے وزارت انصاف کے ملازمین کی ایک بس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح ملازمین کی ایک دوسری بس پر دس مئی کے روز حملہ کیا گیا تھا، جس میں تین شہری ہلاک اور انیس دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

افغان وزارت انصاف کی عمارت کابل کے وسط میں واقع ہے اور اس علاقے کی سکیورٹی انتہائی سخت تصور کی جاتی ہے۔ کئی دیگر اہم عمارتیں بھی اسی علاقے میں موجود ہیں۔ ایک عینی شاہد کان محمد نے غیر ملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا: ’’میرا بیٹا بھی وہاں موجود تھا لیکن مجھے علم نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ پولیس مجھے اس کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کر رہی۔‘‘

طالبان نے اپنے اوائل سال آپریشن کا آغاز اپریل کے اواخر میں کیا تھا اور اب ملک بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک حملے جاری رکھیں گے، جب تک غیر ملکی افواج مکمل طور پر افغانستان کو چھوڑ نہیں جاتیں۔ حالیہ چند دنوں کے دوران دارالحکومت کابل میں ہونے والا یہ پانچواں بڑا حملہ ہے۔