.

یورپی یونین: انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے لیبیا میں مہاجرین کو سمگل کرنے والے گینگز کے خلاف ایک بحری مشن پر اتفاق کیا ہے مگر پناہ کی تلاش میں آنیوالے افراد کے حوالے سے ملکوں کا کوٹہ مقرر کرنے کے حوالے سے اتفاق نہیں ہوسکا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے مشن کے حوالے سے بتایا کہ "یہ تو بس شروعات ہیں۔ اب اصل منصوبہ بندی شروع ہوچکی ہیں۔" یورپی عہدیدار کے مطابق یہ آپریشن اگلے مہینے کے دوران شروع ہوسکتا ہے۔ ابھی تک اس آپریشن کی تفصیلات طے نہیں ہوئی ہیں کیوںکہ ممبر ریاستیں ابھی تک مختلف آپشنز پر غور کررہی ہیں۔

موغیرینی کا کہنا تھا کہ مہاجرین کے حوالے سے جلد ازجلد معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے کیوںکہ جیسے جیسے گرمی میں اضافہ ہوگا مزید لوگ اس طرف رخ کریں گے۔

یہ تمام تیاریاں شمالی افریقہ سے خطرناک سفر کرنے والے سینکڑوں مہاجرین کی ہلاکت اور کئی کشتیوں کے ڈوبنے کے بعد کی جارہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق سال 2015ء کے دوران تقریبا 60 ہزار افراد نے اب تک بحیرہ روم کو پار کرکے یورپ کا سفر کرنے کی کوشش کی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسی سال کے دوران اب تک تقریبا 1800 افراد کشتیوں سے گر کر یا کشتیوں کے ڈوبنے کی صورت میں اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔

اس سے پہلے ایک لیبی عہدیدار نے بی بی سی سے ہی بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ داعش کے جنگجوئوں کو بحیرہ روم کے ذریعے سے یورپ سمگل کیا جارہا ہے۔