یورپی یونین: انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین نے لیبیا میں مہاجرین کو سمگل کرنے والے گینگز کے خلاف ایک بحری مشن پر اتفاق کیا ہے مگر پناہ کی تلاش میں آنیوالے افراد کے حوالے سے ملکوں کا کوٹہ مقرر کرنے کے حوالے سے اتفاق نہیں ہوسکا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے مشن کے حوالے سے بتایا کہ "یہ تو بس شروعات ہیں۔ اب اصل منصوبہ بندی شروع ہوچکی ہیں۔" یورپی عہدیدار کے مطابق یہ آپریشن اگلے مہینے کے دوران شروع ہوسکتا ہے۔ ابھی تک اس آپریشن کی تفصیلات طے نہیں ہوئی ہیں کیوںکہ ممبر ریاستیں ابھی تک مختلف آپشنز پر غور کررہی ہیں۔

موغیرینی کا کہنا تھا کہ مہاجرین کے حوالے سے جلد ازجلد معاملات طے کرنے کی ضرورت ہے کیوںکہ جیسے جیسے گرمی میں اضافہ ہوگا مزید لوگ اس طرف رخ کریں گے۔

یہ تمام تیاریاں شمالی افریقہ سے خطرناک سفر کرنے والے سینکڑوں مہاجرین کی ہلاکت اور کئی کشتیوں کے ڈوبنے کے بعد کی جارہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق سال 2015ء کے دوران تقریبا 60 ہزار افراد نے اب تک بحیرہ روم کو پار کرکے یورپ کا سفر کرنے کی کوشش کی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسی سال کے دوران اب تک تقریبا 1800 افراد کشتیوں سے گر کر یا کشتیوں کے ڈوبنے کی صورت میں اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔

اس سے پہلے ایک لیبی عہدیدار نے بی بی سی سے ہی بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ داعش کے جنگجوئوں کو بحیرہ روم کے ذریعے سے یورپ سمگل کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں