.

یمنی ڈائیلاگ کانفرنس میں بحران کے حل سے متعلق سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں منعقدہ یمنی ڈائیلاگ کانفرنس کے شرکاء نے بحران کے حل کے لیے ایک سمجھوتے پر دستخط کردیے ہیں اور اس کو الریاض اعلامیے کا نام دیا ہے۔

خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے زیر اہتمام اس تین روزہ کانفرنس میں یمن کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔البتہ حوثی باغی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے نمائندے اس میں شریک نہیں ہوئے اور انھوں نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اس اعلامیے میں یمن میں ایک قومی فوج کے قیام کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بغاوت کرنے والے لیڈروں (حوثیوں) کے ساتھ کسی قسم کی کوئی معاملہ کاری نہ کریں۔

اس دستاویز کے مطابق جنگ سے متاثرہ شہریوں کو معاوضہ دیا جائے گا اور خاص طور پر شمالی شہر صعدہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔اس میں لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کے لیے یمن کے اندر ہی پناہ گزین کیمپ قائم کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ بیرون ملک پھنس کر رہ جانے والے شہریوں کے مسائل کے تیز رفتار حل کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

الریاض اعلامیے میں جی سی سی کے رکن ممالک میں یمنی شہریوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے اور جی سی سی کے علاوہ عالمی برادری سے خانہ جنگی کا شکار ملک کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی شکل میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

کانفرنس کے شرکاء نے یمن میں قومی فوج کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کو بھی ملک کا دفاع کرنے والی نیشنل آرمی میں ضم کردیا جائے گا۔

اس کے علاوہ یمن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ کرے گا کہ وہ قرارداد نمبر 2216 پر عمل درآمد کرائے۔اپریل میں منظور کردہ اس قرارداد میں حوثی باغیوں کی قیادت پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں اور ادارے کے رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ حوثیوں سے مالی اور سفارتی معاملہ کاری ختم کردیں۔

دستاویز میں ملک کا نیا آئین تیار کرنے ،اس پر عوامی مباحثے اور پھر ریفرینڈم کے منصوبے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جنوبی یمنیوں سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ انھیں متحدہ جمہوریہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

اس دستاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کانفرنس کے شرکاء نے ایک قومی کمیٹی کی تشکیل سے اتفاق کیا ہے۔اس میں یمن کی مختلف سیاسی جماعتوں اور شہری تنظیموں کے نمائندے شامل ہوں گے اور وہ ملک میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔