.

امریکا کا عراق میں جنگی حکمت عملی پر ازسرنو غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اسی ہفتے عراق کے مغربی شہر رمادی پر قبضے کے بعد اپنی جنگی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیر عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ''عراق میں داعش کے خلاف جنگ سے متعلق حکمت عملی پر نظرثانی کی جارہی ہے۔الرمادی کو واپس لینے کے لیے ہم عراقیوں کی مدد کو تیار ہیں تا کہ وہ جلد سے جلد اس مشن میں کامیاب ہوسکیں''۔

اس عہدے دار نے مزید بتایا ہے کہ امریکا عراق میں ایک ہزار ٹینک شکن میزائل نظام بھیج رہا ہے تاکہ کار بم حملوں کا توڑ کیا جاسکے۔

قبل ازیں امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز اپنے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس طلب کیا تھا اور اس میں عراقی قبائل کو مسلح کرنے اورعسکری تربیت دینے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔

امریکی صدر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ رمادی کا داعش سے قبضہ واپس لینے کے لیے جلد جوابی حملہ کیا جائے گا۔امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان علیسٹئیر باسکے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ الانبار میں مقامی زمینی فورسز کی کیسے بہتر انداز میں مدد کرسکتے ہیں اور مقامی قبائل کو کس طرح فوجی آلات اور تربیت دی جا سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے لیے امریکا کی جانب سے بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے اور حکومتِ عراق کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے۔

عراقی سکیورٹی فورسز نے الرمادی میں داعش کے ہاتھوں شکست کے بعد اب اس کے اردگرد ٹینک اور توپیں لگادی ہیں اور شیعہ ملیشیائیں بھی جوابی حملے کی تیاری کررہی ہیں۔داعش کے الرمادی پر قبضے کو عراقی حکومت اور اس کے مغربی پشتی بانوں کے لیے ایک بڑی ہزیمت قرار دیا جارہا ہے۔

اب عراقی حکومت پر اس شہر کا قبضہ واپس لینے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور مقامی حکومت کے ایک عہدے دار نے رمادی کے مکینوں پر زوردیا ہے کہ وہ پولیس اور فوج میں شامل ہوجائیں اور داعش کے خلاف جنگ لڑیں۔

عراقی وزیراعظم نے گذشتہ اتوار کو رمادی پر داعش کے قبضے کے بعد الحشد الشعبی کے نام سے شیعہ ملیشیاؤں کو بھی الانبار میں سنی جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا حکم دیا تھا جس کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس صوبے میں لڑائی فرقہ وارانہ شکل اختیار کرسکتی ہے اور اس کے ملکی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔