.

داعش کا مسلسل احیاء

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی پر دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے قبضہ کر لیا ہے۔یہ واقعہ صوبہ نینویٰ کے دارالحکومت موصل کے سقوط کے قریباً ایک سال بعد رونما ہوا ہے۔ہم داعش کی ایک سرطان زدہ ریاست سے نبردآزما ہیں جو پھیلتی ہی چلی جارہی ہے۔وہ عراق اور شام کے لیے مزید خطرناک ہوتی جارہی ہے اور سعودی عرب اور اردن کو بھی ڈرا دھمکا رہی ہے۔

الرمادی کا سقوط بھی انہی غلطیوں کی وجہ سے ہوا ہے جن کے نتیجے میں موصل کا سقوط ہوا تھا۔پوری دنیا نے دیکھا کہ عراق کی مسلح افواج آناً فاناً ہی راہ فرار اختیار کرگئی ہیں۔اس کے بعد دارالحکومت بغداد میں افراتفری پھیل گئی اور ہر فریق دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہا تھا۔

سچ بولا جانا چاہیے۔الرمادی کے سقوط کی تمام تر ذمے داری عراقی حکومت پر عاید ہوتی ہے جو فیصلہ کن اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس نے غیظ وغضب کا شکار انتہا پسندوں کو قبول نہیں کیا تھا۔

فاتح اور مفتوح

عراق کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت رمادی میں داعش کی فتح میں فاتح کون اور شکست خوردہ کون ہے؟داعش سب سے بڑی فاتح بن کر اُبھری ہے اور وہ ایک منتشر دہشت گرد تنظیم سے ایک ریاست بنتی جارہی ہے۔

بڑے شہروں پر کنٹرول کے ذریعے وہ زیادہ اسلحہ ،ارکان اور رقوم جمع کرسکے گی۔اپنے اثرورسوخ کو بڑھا سکے گی۔اس نے عراق کے دو صوبائی دارالحکومتوں سمیت متعدد شہروں اور قصبوں پر قبضہ کررکھا ہے،یہ تین ممالک کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کی نگرانی کررہی ہے اور اب وہ بغداد کے نزدیک پہنچ چکی ہے۔

رمادی پر قبضے کی جنگ میں پہلے شکست خوردہ تو الانبار کے عوام ہیں۔لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھنے سے ان کے مصائب اور مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق ملک کے اندر بیس لاکھ سے زیادہ عراقی بے گھر ہوچکے ہیں اور ان میں زیادہ تعداد سنی عربوں کی ہے۔ان پر فرقہ وارانہ اور نسلی وجوہ کی بنا پر بغداد ،کربلا اور کردستان میں پناہ لینے پر پابندی ہے۔

داعش کے زیرقبضہ شہروں کے مکین وہاں اس خوف کی وجہ سے نہیں رہ سکتے ہیں کہ انھیں ذبح کردیا جائے گا یا ان کے بیٹوں کو ان کی مرضی کے برعکس بھرتی کرلیا جائے گا یا پھر وہ گولہ باری سے ہی مارے جائیں گے کیونکہ تکریت کے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔

داعش کی اس توسیع پسندی میں ایک اور فاتح ایران ہے کیونکہ عراق اب ایک ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کو ایران کی حمایت درکار ہے۔چنانچہ تہران نے مزید عسکری امداد روانہ کرنے کی پیش کش کی ہے اور شام والے تجربے کا عراق میں بھی اعادہ کررہا ہے۔شام میں بشارالاسد کی حکومت اب ایرانی طاقت ہی کی مرہون منت ہے۔داعش کی فتوحات کی وجہ سے امیر اور تزویراتی اہمیت کا حامل ملک عراق ایک ایرانی صوبہ بنتا جارہا ہے۔

یہ فتوحات یقینی تھیں کیونکہ عراق کی شیعہ فرقہ پرست فورسز نے صوبہ الانبار کے قبائل کو اپنے دفاع کے لیے مسلح کرنے سے انکار کردیا تھا۔وزیراعظم حیدر العبادی کو فرقہ پرست جماعتوں کے احتجاج کی وجہ سے ان قبائل کو مسلح کرنے سے متعلق اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔انھوں نے امریکا کی سُنی قبائل کو اپنے دفاع اور دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے مسلح کرنے کی خواہش پر بھی اعتراض کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اس طرح کا اقدام عراق کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہوگا۔

اس بحران کے دوران ایران کے وزیردفاع نے بغداد کا دورہ کیا تھا۔اس تناظر میں وزیراعظم حیدر العبادی نے عراقی فوج کی ناکامی کے بعد شیعہ ملیشیاؤں کو رمادی کو آزاد کرانے کی ذمے داری سونپی تھی۔

-----------------------------------------------------------------------

(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے خیالات سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.