.

داعش نے16 سالہ یورپی لڑکے کوبھرتی کرکے شام پہنچا دیا

رضا نامی نوجوان کے ماں باپ اور دیگر اقارب سخت پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کے محاذوں پر فتوحات کے جھنڈے گاڑھنے والے دولت اسلامی "داعش" نامی پراسرار دیو نے جہاں دو عرب ملکوں کے وسیع وعریض علاقےپرقبضہ کرلیا ہے وہیں یہ تنظیم نوخیز ذہنوں کو بھی غیرمعمولی طورپر متاثر کر رہی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق داعش کی انتہا پسندانہ تعلیمات سے متاثر ہونے والے غیرملکیوں کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم 17 ہزار افراد "داعش" کی تبلیغ کے بعد شام اور عراق کے محاذوں پر جا چکے ہیں۔ ان ہزاروں میں بیشتر افراد نوجوان ہیں اور سیکڑوں کم عمر بھی بتائے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چند ماہ قبل یورپی ملک بیلجیم کا ایک 16 سالہ لڑکا رضا بھی "داعش" کے جال میں پھنسا۔ داعشی جنگجو اسے کمال ہنرمندی سے جارجیا کے راستے شام پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

یورپی ملکوں سے اب تک 3000 افراد داعش کے نظریات سے متاثر ہو کر شام اور عراق جا چکے ہیں۔ ان کی حکومتیں اب پریشان ہیں کیونکہ واپسی کے بعد یہ جنگجو ان کے لیے درد سر بنے رہیں گے۔

شام کے محاذ جنگ پرپہنچنے والے رضا نامی لڑکے کے والد محمد نضال نے میڈیا کو بتایا کہ پہلے اس کے بیٹے نے یونیورسٹی کی تعلیم چھوڑی، اس کے بعد ایک خفیہ مکان میں داعش کے افکار سے آگاہی شروع کی اور اگلے مرحلے میں کسی کوخبرتک نہ ہوئی اور ہمیں پتا چلا کہ وہ شام پہنچ چکا ہے۔

محمد نضال کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیٹے کی تصویر شام میں "داعشی" جنگجوئوں کے ہمراہ دیکھی اور بہت دکھ ہوا۔ بعد ازاں رضا نے اپنے ایک ہمشیرہ کو فون کیا اور کہا کہ "میں تم سے اور امی ابو سے بہت محبت کرتا ہوں، لیکن میں جس مشن پر نکلا ہوں اس سے بھی محبت ہے"۔

داعش میں شامل ہونے والے رضا اور بیٹے کی وجہ سے پریشان محمد نضال کی آپ بیتی ان ہزاروں واقعات میں سے ایک ہے جو اس وقت کم عمر بچوں کے والدین کے ساتھ بیت رہے ہیں۔

رضا کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ ابھی تک اس کی عمر صرف سولہ برس ہے۔ میں حیران ہوں کہ اسے جورجیا کے راستے کیسے ایک طویل سفر کے بعد شام پہنچا دیا گیا۔

خیال رہے کہ دولت اسلامی"داعش" نے جب سے شام اور عراق میں جنگ وجدل شروع کیا ہے تب سے کم عمر افراد کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے میں مصروف ہے۔ اس وقت مغربی ممالک کے تین ہزار نوجوان شدت پسندی کا راستہ اختیار کرکے داعش کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں۔