.

سعودی عرب :مسجد میں خودکش بم دھماکا ،21 جاں بحق

سعودی عرب میں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں نماز جمعہ کی ادائی کے دوران ایک مسجد میں خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں اکیس افراد جاں بحق اور کم سے کم ایک سو زخمی ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ قطیف میں واقع قصبے القدیح کی مسجد امام علی بن ابی طالب میں ایک بمبار نے نماز جمعہ کے دوران خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔سعودی عرب میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستہ ایک گروہ نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایک عینی شاہد کمال جعفرحسن کا کہنا ہے کہ ''نماز کے پہلے حصے کے دوران ہم نے ہم دھماکے کی آواز سنی تھی ۔دھماکے کے وقت قریباً ڈیڑھ سو افراد عبادت میں مصروف تھے''۔

زخمیوں کو القطیف کے مرکزی اسپتال اور آرامکو اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ابتدائی رپورٹس میں انیس افراد کی ہلاکت اور قریباً ایک سو کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔القدیح قطیف شہر سے صرف ایک میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

سعودی عرب کے سینیر علماء کی کونسل کے جنرل سیکریٹریٹ نے اس تباہ کن خودکش حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد سعودی عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور مملکت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔

کونسل نے اپنے بیان میں غیرملکی ایجنڈے پر عمل پیرا دہشت گردوں کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔کونسل کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فہد بن سعد الماجد نے کہا ہے کہ'' سعودی عوام کا شعور وآگہی ان دہشت گردوں کے آگے سب سے بڑا سد راہ ہے۔دہشت گردی سعودیوں میں منافرت کے بیج بونا چاہتے ہیں حالانکہ تنازعات کے خطے میں رہتے ہوئے انھیں بہتر سلامتی اور استحکام حاصل ہے''۔

انھوں نے تمام شہریوں ،علماء اور دانشوروں پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد کو مضبوط بنائیں اور ان دشمن کے مذموم عزائم کے آگے سد راہ بن جائیں جو گذشتہ کئی عشروں سے سعودی مملکت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سعودی عرب کی عدالتی کونسل نے بھی اس خودکش بم حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد معاشرے میں تقسیم کے بیج بونا ہے۔کونسل کے سیکریٹری جنرل محمد بن الناشوان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس قابل نفرین مجرمانہ فعل کا اسلام یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سے ہمیں خبردار ہوجانا چاہیے کہ کچھ خفیہ ہاتھ سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور فرقہ واریت اور تقسیم کے بیج بونا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں اپنے قائدین کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے اور غیرملکی فریقوں کو ان کے مذموم مقاصد کے حصول میں کامیاب نہ ہونے دیں۔

پاکستان نے بھی سعودی عرب میں مسجد میں اس تباہ کن بم دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ایک بیان میں پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے بم دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

سعودی حکام نے اپریل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ تیل کی تنصیبات اور شاپنگ مالز پر ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف گذشتہ قریباً آٹھ ہفتوں سے جاری فضائی مہم کے تناظر میں مملکت میں دہشت گردی کا یہ پہلا بڑا واقعہ ہے۔