.

اوباما، یاہو کے بارے منافقت کر رہے ہیں: اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی حکمران جماعت" لیکوڈ" کے ایک سرکردہ عہدیدار نے پارٹی کے قائد اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما کے بیانات کو بلاجواز اور 'منافقت' پر مبنی قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیتن یاہو کے مقرب خاص اور پارلیمنٹ میں خارجہ ودفاع کمیٹیوں کے چیئرمین زاحی ہنگبی نے اخبار "دی اٹیلانٹک" میں شائع امریکی صدر کے نتین یاہو بارے ایک بیان پر کڑی تنقید کی۔

خیال رہے کہ جریدہ "ایٹلانٹک" نے امریکی صدر براک اوباما سے منسوب ایک بیان شائع کیا تھا جس میں انہوں نے نیتن یاہو کے رواں سال مارچ میں فلسطینی ریاست کی مخالفت میں دیے گئے ایک بیان پر دوبارہ اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ساتھ ہی امریکی صدر نے خبردار کیا تھا کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں سے ان کے ملک کی اسرائیل بارے خارجہ پالیسی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل میں سترہ مارچ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے ایک روز قبل نیتن یاہو نے مذہبی انتہا پسندوں کے زیادہ سے زیادہ ووٹوں کے حصول کے لیے ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دوبارہ حکومت بنانے کی صورت میں وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کریں گے۔ اگرچہ انتخابات میں کامیابی کے بعد نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کی مخالفت سے متعلق اپنا متنازع بیان واپس لے لیا تھا۔

امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر اس طرح کی متنازع باتیں کی جائیں گی تو اس خارجہ پالیسی پر اس کے منفی اثرات تو پڑیں گے"۔

اس کے ردعمل میں اسرائیلی عہدیدار زاحی ہنگبی کا کہنا تھا کہ صدر اوباما کا اسلوب "نامناسب" ہے۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس سے ان کے اندر کی منافقت کا اندازہ ہوتا ہے"۔

صہیونی عہدیدار کا کہنا تھا کہ "اوباما کی جانب سے ہم اپنے ان پڑوسیوں کے بارے میں تنقید کا ایک لفظ بھی نہں سنتے جو غیر قانونی طور پر شہریوں کو پھانسیاں دینے کا عالمی ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ جی ہاں! میرای مراد ایران ہے اور صدر اوباما ایران کے ساتھ مفاہمت کے لیے آخری تک جا چکے ہیں"۔ ان کا اشارہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان معاہدہ کی جانب تھا۔