.

''عراقی فورسز میں داعش کے خلاف لڑنے کا عزم نہیں''

عراقی فوج نے زیادہ تعداد کے باوجود الرمادی خالی کردیا:امریکی وزیردفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ عراقی فورسز نے ایک ہفتہ قبل مغربی شہر الرمادی کے سقوط کے وقت سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے مقابلے میں لڑائی کے عزم کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔اب امریکی فورسز ان کی داعش سے براہ راست لڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کی کوشش کررہی ہیں۔

انھوں نے یہ بات سی این این کے اسٹیٹ آف دی یونین پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ عراقی فورسز نے لڑائی کے لیے کسی قسم کے عزم کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ان کی مخالفین کے مقابلے میں تعداد بھی کہیں زیادہ تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے شہر کوخالی کردیا۔

مسٹر کارٹر نے کہا کہ ''اب امریکا نے فضائی حملے اور عراقی فورسز کو تربیت اور آلات مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ صورت حال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''فضائی حملے موثر ہیں لیکن وہ یا کوئی اور چیز عراقیوں کے جنگ کے لیے عزم کا متبادل نہیں ہوسکتی ہے۔انھیں ہی داعش کو شکست دینا ہوگی اور پھر مسلسل شکستوں سے دوچار کرتے چلے جانا ہوگا''۔

پروگرام کے دوران انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ''امریکی فوج نے واشنگٹن کی جانب سے عراق کو مہیا کی جانے والی امداد میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی سفارش نہیں کی ہے۔اگر ضرورت پڑی تو ہم عراقی فورسز کے لیے امداد میں تبدیلی کی سفارش کریں گے''۔

درایں اثناء سنٹر برائے نیو امریکن سکیورٹی کی چیف ایگزیکٹو میشیل فلورنائے نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو عراقی حکومت پر ملک کے مغربی علاقوں میں سنی قبائل کو وسائل مہیا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے کیونکہ وہ عراقی فورسز کے مقابلے میں داعش سے لڑنے کا زیادہ عزم رکھتے ہیں''۔فلورنائے امریکا کی سابق انڈر سیکریٹری برائے دفاعی پالیسی رہی ہیں۔انھوں نے امریکی وزیردفاع کے مذکورہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انھوں نے وقتِ ضرورت مزید کچھ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''اب کچھ کرنے کا وقت آگیا ہے''۔