.

مسجد پر حملہ آوروں کو سزا دی جائے گی:شاہ سلمان

گھناؤنے جُرم کے منصوبہ سازوں ،معاونین یا ہمدردوں کا احتساب کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ وہ مسجد میں خودکش بم دھماکے سے دل گرفتہ ہیں اور اس حملے میں ملوّث افراد اور ان کے ہمدردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق شاہ سلمان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ''ہمیں اس تباہ کن دہشت گردانہ جارحیت سے صدمہ پہنچا ہے اور یہ جُرم اسلامی اور انسانی اقدار کے منافی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس گھناؤنے جُرم کے منصوبہ سازوں ،معاونین یا ہمدردوں کا احتساب کیا جائے گا۔ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے گی''۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب جنگجوؤں کے خلاف جنگ کو نہیں روکے گا۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں واقع قصبے القدیح کی مسجد امام علی بن ابی طالب میں نماز جمعہ کی ادائی کے دوران خودکش بم دھماکے میں اکیس افراد جاں بحق اور اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

خودکش بمبار

سعودی حکام نے خودکش بمبار کی شناخت صالح بن عبدالرحمان صالح القشعمی کے نام سے کی ہے۔سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس خود کش بم دھماکے بعد عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستہ ایک سیل کے چھبیس ارکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

داعش کے اس سیل ہی نے جمعہ کو مسجد میں خودکش بم دھماکے کے بعد ایک بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔وزارت داخلہ نے بیان میں بتایا ہے کہ میں خودکش بمبار صالح بن عبدالرحمان صالح القشعمی ایک سعودی شہری ہے۔وہ دہشت گردی کے ایک سیل سے تعلق اور بیرون ملک سے داعش سے ہدایات لینے کے الزام میں سکیورٹی سروسز کو مطلوب تھا۔اس کے والد کو پہلے ہی گرفتار کیا جاچکا ہے۔

سعودی حکام نے گذشتہ ماہ اس سیل کا پتا چلا لیا تھا اور اس کے گرفتار تمام چھبیس ارکان سعودی شہری ہیں۔اسی سیل سے تعلق رکھنے والے پانچ ارکان نے دوہفتے قبل ایک سعودی فوجی کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔