.

افغانستان :بم دھماکوں میں 11 افراد ہلاک

مغربی صوبہ فراہ میں طالبان اور داعش کے حامیوں میں شدید لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دو جنوبی صوبوں میں خودکش ٹرک بم حملے اور سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ طالبان اور دولت اسلامیہ (داعش) کے حامیوں کے درمیان مغربی صوبے فراہ میں گذشتہ تین روز سے خونریز لڑائی جاری ہے۔

صوبہ فراہ کے گورنر آصف نانگ نے سوموار کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ طالبان اور داعش کی بیعت کا اعلان کرنے والے متحارب مزاحمت کاروں کے درمیان گذشتہ تین روز سے جاری جھڑپوں میں پچیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں طالبان کے کم سے کم دس جنگجو اور داعش کے پندرہ حامی شامل ہیں۔گورنر نے ان کے درمیان جھڑپوں کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔

افغانستان میں داعش کی ایک موثر جنگجو گروہ کے طور پر موجودگی کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور بعض افغان حکام اور غیرملکی ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش سے وابستگی کا اظہار کرنے والے جنگجو از خود کارروائیوں کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔تاہم دوسرے اس سے اختلاف رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ داعش اب افغانستان میں ایک موثر گروہ کے طور پر موجود ہے۔

درایں اثناء صوبہ زابل کے دارالحکومت میں سوموار کو صوبائی کونسل کے کمپاؤنڈ کے بیرونی دروازے پر خودکش بمبار نے بارود سے بھرا ٹرک دھماکے سے اڑا دیا ہے۔کونسل کے ڈائریکٹر عطا جان حق بیان نے بم دھماکے میں پانچ افراد کی ہلاکت اور باسٹھ کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں کونسل کے تین ارکان بھی شامل ہیں اور ان میں دو خواتین ہیں۔زابل کے پولیس سربراہ میر ویس نور زئی کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے بم دھماکے کے لیے ایک چھوٹا ٹرک استعمال کیا ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے اس تباہ کن بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

مزاحمت کاروں نے حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع زابل میں اپنے حملے تیز کررکھے ہیں۔اس صوبے میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

سوموار کی شام زابل کے ساتھ واقع ایک اور جنوبی صوبے قندھار میں سڑک کے کنارے نصب بم کا دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ قندھار ہی میں افغان پولیس افسروں کے دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور اس واقعے میں تین پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔قندھار پولیس کے ترجمان ضیاء درانی کا کہنا ہے کہ چار پولیس افسر جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہے۔