.

ایران: باسیج ملیشیا کا جوہری معاہدے کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جہاں ایک طرف حکومت چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ آئںدہ جون میں متنازعہ جوہری پروگرام پر حتمی ڈیل کرنے جا رہی ہے وہیں ملک میں اس معاہدے کے خلاف احتجاج بھی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق قدامت پسند حلقوں کے بعد اب ملک کی ایک نیم سرکاری ملیشیا "باسیج" بھی اس احتجاج میں شامل ہوگئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز دارالحکومت تہران میں "فلسطین گرائونڈ" میں باسیج ملیشیا کے سیکڑوں اہلکاروں نے جوہری پروگرام پر معاہدے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "سحام نیوز" کے مطابق ملک کے حساس علاقے میں اس نوعیت کے احتجاجی مظاہرے کی اجازت کم ہی ہوتی ہے لیکن پہلی بار فلسطین گرائونڈ میں باسیج ملیشیا کے سیکڑوں اہلکاروں کو عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر معاہدے کے خلاف جلوس نکالے دیکھا گیا ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر امریکا کے خلاف بھی سخت نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر عاید پابندیاں ختم کرنے کے بجائے تہران کے جوہری پروگرام کو "رول بیک" کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایرانی حکومت کو بلیک میل کر کے نہ صرف ہماری جوہری تنصیبات تک رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ ایٹمی سائنسدانوں سے ملاقاتیں کر کے ان سے جوہری راز حاصل کرنے کی سازش بھی تیار کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں حساس جوہری تنصیبات اور فوجی مراکز کی معائنہ کاری کے حوالے سے ایرانی قیادت باہم متفق نہیں ہوسکی ہے تاہم ایرانی مذاکرات کار عالمی طاقتوں کو یہ یقین دہانی کراچکے ہیں کہ وہ عالمی توانائی ایجنسی کے ماہرین کو فوجی تنصیبات تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ ودفاع کمیٹیوں کے ایک مشترکہ بند کمرہ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ایران عالمی معائنہ کاروں کو فوجی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ آیا تہران نے اپنے جوہری سائنسدانوں سے عالمی ٹیموں کو ملنے کی اجازت دے گا یا نہیں۔