.

تیونس:فوجی کی فائرنگ سے ایک افسر، دو اہلکار ہلاک

15 فوجی زخمی، ساتھیوں پر فائرنگ کرنے والے اہلکار نے خود کو گولی مار لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے دارالحکومت تیونس میں ایک فوجی اڈے پر ایک فوجی نے اپنے ساتھیوں پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت تین اہلکار ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔بعد میں اس فوجی نے گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔

تیونس کی وزارت دفاع کے ترجمان بلحسن وسلاتی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد مسلح افواج نے صورت حال پر قابو پالیا ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ فوجی نے اپنے ساتھیوں پر فائرنگ کیوں کی ہے۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ دہشت گردی کا حملہ نہیں ہے۔

سوموار کو فائرنگ کا یہ واقعہ تیونس میں مشہور باردو میوزیم کے نزدیک واقع بوشوشہ بیرکس میں پیش آیا ہے۔اس عجائب گھر پر 18 مارچ کو مسلح دہشت گردوں کے حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں زیادہ تر غیرملکی سیاح تھے۔

واضح رہے کہ سنہ 2011ء کے اوائل میں مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے تیونس کی سکیورٹی فورسز ملک کے مختلف علاقوں میں سخت گیر گروپ داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں اور ان گروپوں کے جنگجو تیونسی فورسز پر آئے دن حملے کرتے رہتے ہیں۔