.

یمن: تعز اور ضالع میں متحارب فورسز میں شدید لڑائی

تعز میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ،حوثیوں کے راکٹ حملے اور گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں حوثی ملیشیا اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان شدید لڑائی میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق سوموار کی صبح تعز کے مختلف علاقوں میں متحارب ملیشیاؤں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی تھی جس کے بعد شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ایک مقامی عہدے دار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سرکاری فورسز کے ساتھ اتوار سے جاری لڑائی میں تیس حوثی باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔لڑائی میں جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے پانچ وفادار جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

صدر ہادی کی وفادار مقامی مزاحمتی فورسز کے ایک ترجمان نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا ہے کہ تعز کے مغرب میں ایک چیک پوائنٹ پر حملے میں کم سے کم دس حوثی باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

تعز کے مکینوں کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی فورسز نے سوموار کو مسلسل دوسرے روز شہر کے مختلف علاقوں پر راکٹ فائر کیے ہیں اور ٹینکوں سے گولہ باری کی ہے۔

خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق حوثی باغیوں نے شاہراہوں پر شدید لڑائی کے بعد مقامی قبائلیوں اور اسلامی جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ہے۔اتوار کی رات تعز میں بمباری سے دس شہری ہلاک اور اسی زخمی ہوگئے تھے۔شہر کے ایک مکین باسم القاضی کا کہنا ہے کہ تعز میں اس وقت حقیقی قتل عام جاری ہے۔

تعز کے ہمسایہ صوبے ضالع میں صدر منصور ہادی کے وفادار جنگجوؤں نے لڑائی کے بعد حوثی باغیوں سے ایک فوجی کیمپ سمیت متعدد علاقے واگزار کرا لیے ہیں۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آج دوپہر بھی آرمی کے تینتیسویں آرمرڈ بریگیڈ کے بیس پر جھڑپیں جاری تھیں۔حکومت نواز فورسز نے لڑائی کے دوران چھے ٹینکوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

یمن کے جنوبی صوبوں عدن ،شبوۃ اور ابین میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔اس سے ایک روز پہلے ہی سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ان تینوں صوبوں کے علاوہ دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں اور اسلحے کے ڈپوؤں پر شدید بمباری کی تھی۔

درایں اثناء یمن بحران کے حل کے لیے جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام امن کانفرنس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔اس کانفرنس کو چار روز بعد منعقد ہونا تھا۔کانفرنس کے شرکاء کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پائی جاتی تھی جس کے بعد کانفرنس کو ملتوی کردیا گیا ہے۔