.

ترکی،امریکا شامی اپوزیشن کو فضائی معاونت فراہم کرنے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور امریکا نے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم اعتدال پسند اپوزیشن گروپوں کی تربیت کے ساتھ محاذ جنگ پر اُنہیں فضائی معاونت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک وزیرخارجہ مولود چائوش اوگلو نے استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے امریکا کے ساتھ مل کر شامی اپوزیشن کے اعتدال پسند گروپوں کو فضائی مدد فراہم کرنے کے اصول سے اتفاق کیا ہے۔

اگرچہ امریکا شامی حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے اعتدال پسند گروپوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ انہیں فضائی تحفظ فراہم کرنے کی بات کرتا آیا ہے مگر ترک وزیر خارجہ کے بیان کے بعد امریکا کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ شام میں داعش اور صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم ان باغی گروپوں کی فضائی مدد کی جائے گی جنہیں ترکی میں تربیت کے بعد شام بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں پیش آئند چند ماہ کے اندر اندر 15 ہزار جنگجوئوں کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ "داعش" کے مقابلے کے تربیت کے بعد بھیجا جائے گا۔

ترک وزیرخارجہ نے یہ وضاحت نہیں کہ کہ آیا امریکا اور ترکی "مشترکہ اصول" کے تحت شامی باغیوں کو فضائی معاونت کیسے فراہم کریں گے۔

قبل ازیں اخبار "ڈیلی صباح" کو انٹرویو دیتے ہوئے چائووش اوگلو کا کہنا تھا کہ شامی باغیوں کو فضائی سپورٹ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر انہیں فضائی معاونت فراہم نہ گئی تو شام میں لڑنے والے اعتدال پسند باغیوں کی کامیابیوں کے امکان کم ہوجائیں گے۔ اصولا شامی باغیوں کو فضائی معاونت فراہم کرنے پر امریکا اور ترکی میں اتفاق ہوچکا ہے۔ اب یہ معاونت کیسے فراہم کی جائے گی یہ فوج کی ذمہ داری ہے۔

خیال رہے کہ ترکی اور امریکا نے کچھ عرصہ قبل شام میں تحریک انقلاب کو موثر بنانے کے لیے ترکی کی سرزمین پر باغیوں کوتربیت دینے کا پروگرام بنایا تھا تاہم شمالی اوقیانوس کے فوجی اتحاد "نیٹو" میں شامل امریکا اور ترکی دونوں میں شامی باغیوں کی ٹریننگ سے متعلق اختلافات سامنے آئے تھے جس کے بعد تربیتی پروگرام موخر کردیا گیا تھا۔