.

حسن نصراللہ عرب خطے میں ولایت فقیہ کی جنگ لڑرہے ہیں:علی الحسینی

'ایران "داعش" سے بڑا خطرہ ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں اہل تشیع مسلک کے ایک سرکردہ عالم دین اور "عرب اسلامک کونسل" کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد علی الحسینی نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو کڑی تنقید کا نشانہ باتے ہوئے کہا ہے کہ نصراللہ عرب خطے میں ایرانی ولایت فقیہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

الحدث ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں الشیخ علی الحسینی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی جانب سے اتحاد کی دعوت صرف ایران کے دفاع کے لیے دی جاتی ہے۔ وہ صرف ایران کی بقاء کے لیے اپنے دوستوں اور حامیوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

علامہ الحسینی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ اپنے مخصوص سیاسی اورعسکری نظریات پوری لبنانی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ گذشتہ روز حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی تقریر میں بھی صاف دکھائی دے رہا تھا کہ انہیں عوام میں اپنی پذیرائی کے ختم ہونے کا خوف لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کا دفاع صرف فوج کرسکتی ہے۔ حزب اللہ اس کے حامی گروپ جرود اور عرسال جیسے سرحدی علاقوں میں لڑائی کی صورت حال پیدا کر کے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر جنگ لڑنے والے ملک کا دفاع نہیں کرسکتے۔

علامہ علی الحسینی کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بیانات میں بھی واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ اس بات کا عین ثبوت ہے کہ حسن نصراللہ خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ انہیں ایران سے ہدایات دی جاتی ہے۔ وہ لبنان میں ایرانی ولایت فقیہ کے محض ایک سپاہی ہیں۔ انہوں نے حسن نصراللہ کے بیانات میں تضاد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں نصراللہ کہتے ہیں کہ ہم شام میں داخل نہیں ہوں گے۔ کچھ ہی دیربعد ان کا بیان آتا ہے کہ 'ہم سیدہ زینب کے مزار کے دفاع کے لیے شام میں مداخلت کریں گے۔' ان کے بار بار بدلتے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل فیصلہ ایران کررہا ہے حزب اللہ عرب خطے میں ایران کا ایک آلہ کار ہے۔

لبنانی شیعہ عالم دین نے ایرانی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہمارے لیے ایران "داعش" سے بڑا خطرہ ہے کیونکہ تہران ہمارے ملکوں پر حملوں کی دھمکیاں دیتا اور داعش جیسے گروپوں کی مدد کرتا ہے۔ اس وقت بحرین، شام، عراق ،یمن اور لبنان کو ولایت فقیہ کے نظام اور داعش دونوں سے خطرات لاحق ہیں۔