.

رمادی پرقبضے کے بعد بغداد "داعش" کا اگلا ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ "داعش" کی جانب سے عراق کے مرکزی شہر الرمادی پر ڈرامائی قبضے اور عراقی فوج کی شکست فاش کے بعد دارالحکومت بغداد کو بھی داعش کی جانب سے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ الانبار کے مرکزی شہر الرمادی سے دارالحکومت بغداد محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ چونکہ داعشی جنگجو تیزی کے ساتھ بغداد کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں۔ اس لیے خطرہ ہے کہ اگر داعش کوروکا نہ گیا تو چند دنوں کے اندر اندر وہ دارالحکومت پر قبضہ کرسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بغداد کے مغرب کی سمت میں الرمادی کا وسطی اور شمالی علاقہ واقعہ ہے اور شہر کے اس حصے پر "داعش" کا کنٹرول ہے۔ رمادی کے مغرب میں ایک محدود ٹکڑے پر عراقی فوج بھی موجود ہے لیکن اسے مسلسل پسپائی کا سامنا ہے۔ شہر کے جنوبی علاقے پر مقامی قبائل قابض ہیں۔ جبکہ مشرقی حصہ بھی قبائل اور عراقی فوج میں منقسم ہے۔

ماہرین کے خیال میں رمادی کے جنوب مشرقی شہر فلوجہ سے داعشی جنگجو بغداد کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں کیونکہ فلوجہ پہلے داعش کے کنٹرول میں ہے۔ فلوجہ کی سمت سے بغداد محض 60 کلومیٹر کی دوری پرہے۔ فلوجہ اس وقت داعش کا اہم مرکز ہے کیونکہ تنظیم نے پچھلے ایک سال سے وہاں پر اپنے مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔

مشرقی رمادی کے حصیبہ، الحبانیہ اور الخالدیہ نامی ہر اس وقت عراقی فوج کے کنٹرول میں ہیں مگر یہاں پر بھی داعش کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ عین ممکن ہے کہ داعش حملہ کر کے عراقی فوج کے سپلائی لائن کاٹ دے اور بغداد کو ملانے والے مرکزی راستوں پر قابض ہوجائے۔

رمادی شہر سے محض 17 کلومیٹر کی مسافت پر واقع حصیبہ پر چند روز قبل دولت اسلامی نے قبضے کی کوشش کی تھی تاہم عراقی فوج نے داعش کو پسپا کردیا تھا۔ اب داعشی جنگجو الحبانیہ فوجی اڈے کی طرف بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ الحبانیہ دفاعی اعتبار سے عراقی فوج کی دارالحکومت کے باہر انتہائی اہم پوزیشن ہے جو دارالحکومت بغداد سے محض 30 کلو میٹر دور ہے۔ الحبانیہ فوجی اڈے پر داعش کا قبضہ جنگجوئوں کو بغداد میں داخلے کا براہ راستہ راستہ فراہم کرسکتا ہے۔