.

یمن جنگ :ایک کروڑ 60 لاکھ افراد صاف پانی سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کے آغاز کے قریباً دو ماہ بعد ملک کی دو تہائی آبادی صاف پانی تک رسائی سے محروم ہوگئی ہے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے امدادی ادارے آکسفیم نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''فضائی حملے ،برسرزمین لڑائی اور ایندھن کی قلّت کے بعد مزید تیس لاکھ یمنی پینے کے صاف پانی سے محروم ہوگئے ہیں اور اب پینے کے صاف پانی اور سینی ٹیشن کی سہولت سے محروم یمنیوں کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ہوگئی ہے''۔

آکسفیم کے یمن میں ڈائریکٹر گریس عمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تمام تعداد برلن ،لندن ،پیرس اور روم کی مجموعی آبادی کے برابر ہے۔اس تنظیم کا کہنا ہے کہ غربت زدہ یمن کی نصف آبادی کو لڑائی میں شدت سے قبل بھی پینے کے صاف پانی کی نعمت میسر نہیں تھی۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک نے 26 مارچ کو ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا جبکہ ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔فضائی حملوں اور لڑائی کے نتیجے میں یمن کے آب رسانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

آکسفیم کا کہنا ہے کہ یمن میں اب لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس سے انھیں جان لیوا بیماریاں ملیریا ،ہیضہ ،اسہال اور پیچش وغیرہ لاحق ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔