.

طبرق: لیبی وزیر اعظم پر قاتلانہ حملہ ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر اعظ٘م عبداللہ الثنی پر پارلیمنٹ کے سیشن سے واپسی کے موقع پر مسلح شخص نے فائرنگ کردی۔ لیبی وزیر اعظم حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

عبداللہ الثنی نےالعربیہ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ طبرق شہر میں واقع پارلیمنٹ سے باہر نکلے اور قافلے سمیت اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے تو متعدد گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے ان کے قافلے پر فائرنگ کردی۔

الثنی کو پہلے ہی ملک کے مشرقی حصے سے ایک غیر موثر ریاست چلانے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیبی حکومت ملک کے مغربی حصے میں واقع دارالحکومت طرابلس کو حریف اتحاد کے ہاتھوں کھو چکی ہے جو وزارتوں اور اہم سرکاری تنظیموں کا چارج سنبھال چکے ہیں۔

الثنی نے بتایا "ہم پر اچانک سے بہت ساری گولیاں برسانا شروع کردی گئیں۔ خدا کا شکر ہے ہم وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔" لیبی وزیر اعظ٘م کے مطابق اس فائرنگ کے دوران ان کا ایک باڈی گارڈ زخمی ہوگیا تھا۔

عبداللہ الثنی نے اس واقعے کی مزید تفصیل نہیں بیان کی مگر ان کی کابینہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ یہ مسلح افراد کرائے کے قاتل تھے جنہوں نے اس سے پہلے لیبی پارلیمان میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

لیبی پارلیمان کے دو ارکان نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے سپیکر عقیلہ صالح نے ایوان کے باہر حکومت مخالف مظاہرین کے جمع ہوجانے کے موقع پر الثنی سے کہا کہ وہ اپنی حفاظت کی خاطر فوری طور پر چلے جائیں۔

لیبی ارکان پارلیمان کے مطابق نیول بیس کے گیٹ کے باہر ایک گاڑی کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جاسکتا تھا۔ الثنی کی روانگی کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوگیا۔ عبداللہ الثنی طبرق کے نزدیک ہی واقع قصبے البیضاء سے انتظام حکومت چلاتے ہیں۔

الثنی کی حکومت نے اس سے پہلے پارلیمنٹ کے قیام کے لئے لیبیا کے مرکزی شہر بن غازی کا انتخاب کیا تھا مگر بن غازی میں سرکاری فوج اور اسلام پسند اتحاد کے جنگجوئوں کے درمیان لڑائی چھڑ جانے کے نتیجے میں پارلیمان اور حکومت کے دفاتر طبرق منتقل کردیے گئے تھے۔

طبرق میں بھی پہلے ایک ہوٹل میں پارلیمان کے اجلاس ہوتے رہے ہیں مگر ماہ دسمبر میں اس ہوٹل کے سامنے ایک خودکش حملے کے بعد پارلیمان کو بحریہ کی بیس پر منتقل کردیا گیا۔

لیبیا میں منتخب پارلیمان کی اتھارٹی کے مقابلے میں طرابلس میں متوازی جنرل نیشنل کانگریس قائم ہے جو حریف اتحاد فجر لیبیا نے پچھلے سال اگست میں طرابلس پر قبضے کے بعد قائم کی تھی۔