.

دہشت گردی مسلم دنیا کو تقسیم کررہی ہے: سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں اور اسلامی انتہا پسندی پر عمل مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو کویت شہر میں اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے وزرائے خارجہ کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم انتہا پسندی اور تشدد کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''دہشت گردی ،انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا مقصد مسلم دنیا کو تقسیم کرنا ہے''۔انھوں نے یمن میں جاری بحران کا حوالہ دیا جو ان کے بہ قول ''عالمی سطح پر مسلم کمیونٹی کے مصائب کا عکاس ہے''۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد 26 مارچ سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے کررہا ہے اور یہ فضائی مہم یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور عرب لیگ کے نام مداخلت کی اپیل کے ردعمل میں شروع کی گئی تھی۔

کویتی امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الاحمد الصباح نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ عرب اتحاد نے یمنی صدر کی درخواست پر قانون کی عمل داری کی بحالی کے لیے فضائی مہم شروع کی تھی۔

انھوں نے شام میں جاری بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چار سال سے جاری اس جنگ سے پیدا ہونے والے مسائل کو سفارتی ذرائع سے ہی حل کیا جاسکتا ہے جبکہ انسانی بحران بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔

او آئی سی کے اس بیالیسویں اجلاس میں پچاس سے زیادہ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔یہ جمعرات کو بھی جاری رہے گا اور اس کا مقصد دہشت گردی ،متشدد انتہا پسندی اور منافرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی وضع کرنا ہے۔اس کا عنوان :''رواداری کے فروغ اور دہشت گردی کی مذمت کے لیے مشترکہ وژن'' ہے۔

آج پہلے روز تنظیم کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی نے بھی تقریر کی ہے۔اس اجلاس میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اسلامی دنیا میں سول معاشروں کے کردار، انتہا پسندانہ نظریے کی نفی کے لیے مسلم دنیا کے ممکنہ منفرد کردار ،اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر سے نمٹنے کے لیے جوابی اقدامات اور سخت گیری اور کٹڑپن کا نشانہ بننے والے آبادی کے گروپوں خاص طور پر نوجوانوں کو با اختیار بنانے سے متعلق امور پر غور کیا جارہا ہے۔

او آئی سی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی نے کہا کہ ''دہشت گردی سے تنظیم کے رکن ممالک کے علاوہ عالمی برادری کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے سنگین چیلنجز پیدا ہوگئے ہیں۔داعش ،بوکو حرام ،الشباب ،القاعدہ اور طالبان ایسے خطرناک گروپ اسلامی اصولوں کے منافی کام کررہے ہیں اور وہ بعض رکن ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ہمیں سکیورٹی اقدامات سے علاوہ بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔پائیدار طویل المیعاد حل کے لیے سول معاشروں کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔نیز بے روزگاری اور انتہا پسندوں کے بھرتی کنندگان کو فائدہ اٹھانے سے روکنے جیسے سماجی اقتصادی چیلنجز سے نمٹنا ہوگا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں انتہا پسندانہ بیانیے اور منافرت پر مبنی تقاریر کو بھی روکنا ہوگا جن کے نتیجے سے میانمر ایسے ممالک میں مسلمانوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا جارہا ہے اور خود مسلم اکثریتی ممالک میں مذہبی اقلیتوں کو ہدف بنایا جارہا ہے''۔میانمر سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر غور بھی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔