.

یمن: سعودی اتحادیوں کی حدیدہ نیول بیس پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے بحیرہ احمر کے کنارے واقع شہر حدیدہ میں ایک نیول بیس پر بدھ کو بمباری کی ہے۔

حدیدہ کی بندرگاہ پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے قبضہ کررکھا ہے۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق نیول بیس پر لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں سے بمباری کی گئی ہے،اس کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا ہے،وہاں لنگرانداز دو جنگی بحری جہازوں کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے اور ان میں سے بلقیس نامی ایک بحری جہاز تباہ ہو کر سمندر برد ہوگیا ہے۔

ادھر دارالحکومت صنعا کے مکینوں نے حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ فوجی کیمپوں پر نَئے فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔بدھ کی صبح پولیس کمانڈو کیمپ پر بمباری سے آگ لگ گئی اور وہاں سے شعلے آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

درایں اثناء حوثی باغیوں نے جنوبی شہر عدن میں مقامی مزاحمتی فورسز کے ایک ٹھکانے پر گولہ باری کی ہے۔اس شہر میں سعودی دارالحکومت الریاض میں جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفاداروں نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کے مقابلے میں پیش قدمی ہے اور ان کے زیر قبضہ بعض علاقے چھین لیے ہیں۔وہ عدن اور اس کے نواحی علاقوں میں حوثیوں کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ایک ہزار سینتیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں ایک سو تیس خواتین اور دو سو چونتیس بچے شامل ہیں۔

یمن میں جاری لڑائی کے پیش نظر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے 28 مئی کو جنیوا میں ہونے والے امن مذاکرات ملتوی کردیے ہیں۔ان کے ترجمان اسٹیفن دوجیرک نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ''سیکریٹری جنرل کو جلد مذاکرات شروع نہ ہونے پر مایوسی ہوئی ہے۔انھوں نے یمن کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے تحت مشاورتی عمل میں نیک نیتی اور کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر شریک ہوں''۔