.

"ایران صدام کےانجام سے دوچار ہو سکتا ہے"

ایرانی شیعہ عالم دین کی جانب سے فوجی تنصیبات کے معائنے پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور مغرب کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کی تیاریوں کے جلو میں ایرانی سیاست دانوں،عسکری قائدین اور ملک کے سرکردہ مذہبی رہ نمائوں کی جانب سے رد عمل بھی سامنے آ رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کی صورت میں ایران کو اپنی اہم جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ فوجی مراکز کو بھی تلاشی کے لیے کھولنا پڑے گا لیکن ایران کا مذہبی طبقہ اس کے سخت خلاف ہے۔ ایران کے ایک سرکردہ عالم دین کاظم صدیقی نے خبردار کیا ہے کہ فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری کی اجازت دینے سے ایران کو عراق اور لیبیا کے انجام سے دوچار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

ان کا اشارہ ان دونوں ملکوں کی جانب سے اپنے مبینہ جوہری ہتھیاروں کی تلفی کی جانب تھا کیونکہ امریکا نے دبائو کے ذریعے ان دونوں ملکوں کا اسلحہ سمندر برد کرادیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جعمہ کو تہران کےقائم مقام امام و خطیب کاظم صدیقی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "معاہدے کے پروٹوکول کے تحت معائنہ کاروں کو جہاں چاہیں گے رسائی دینا پڑے گی۔ یہاں تک کہ جوہری پروگرام کی مانیٹرنگ کی آڑ میں عالمی معائنہ کار ہماری حساس تنصیبات کی جاسوسی کرسکتے ہیں۔

ایرانی عالم دین نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ عالمی توانائی ایجنسی"آئی اے ای اے" کے ساتھ مکمل تعاون کرے تاکہ توانائی ایجنسی ایران کے خلاف کسی عالمی فوجی کارروائی یا عالمی رائے عامہ کو تہران کے خلاف ہموار نہ کرسکے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان میری ھاریونے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "ایران کی فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کا حصہ ہوگی۔" انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس بیان کے رد عمل میں کہا تھا کہ معاہدے کے پروٹوکول کے تحت معائنہ کار ایران کی فوجی اور حساس نوعیت کی تنصیبات کا بھی معائنہ کرسکیں گے تاہم سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فوجی تنصیبات تک معائنہ کاروں کو رسائی نہیں دیں گے۔

معائنہ کاری اور انسانی حقوق

ایرانی سپریم لیڈرنے امریکا اورمغرب کی جانب سے ایران میں فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے معاملے کومتنازعہ جوہری پروگرام پر معاہدے سے جوڑنے پر کڑی تنقید کی تھی۔

گذشتہ بدھ کو ارکان شوریٰ[پارلیمنٹ] کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران آیت اللہ علی خامنہ نے کہا کہ مغرب ان کے ملک سے نہ صرف جوہری پروگرام کی وجہ سے الجھ رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو بھی جوہری معاہدے پرعمل درآمد کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اگرہم اندرونی مسائل کے حل توجہ مرکوز کریں انسانی حقوق کے معاملے کوآسانی کے ساتھ نمٹ سکتے ہیں۔

ایران کا میزائل پروگرام

ایران کے ساتھ مغرب کے مذاکرات میں محض فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری یا انسانی حقوق کا معاملہ ہی نہیں بلکہ گروپ چھ ایران کے مشکوک نوعیت کے میزائل پروگرام کوبھی تین جون کو ہونےو الے حتمی معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے کیونکہ اب تک مغرب اور ایران کے درمیان جن ایشوز پرباربار اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان میں مشکوک میزائل پروگرام بھی شامل ہے۔

پچھلے ماہ مرشد اعلیٰ کے مشیربرائے ریاستی امورعلی اکبر ولایتی نے مغرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور مغرب ایران کو"دھوکہ" دے رہے ہیں۔ انہوں نے جوہری پروگرام پرمعاہدے کے لیے انسانی حقوق اور میزائل پروگرام کو بھی شامل کر رکھا ہے۔

مسٹرولایتی کاکہنا تھا کہ "ہمیں یقین کے کہ مغرب ایران میں انسانی حقوق اور میزائل پروگرام کو بھی جوہری معاہدے کی شرائط میں ڈالے تاکہ تہران کو دبائو میں ڈالا جا سکے۔

خیال رہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران اور جرمنی ایران کے ساتھ اس کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدے پر بات چیت کررہے ہیں تاہم حالیہ دنوں میں ایرانی قدامت پسند رہ نمائوں کی جانب سے فوجی تنصیبات کی معائنہ کاری، انسانی حقوق اور میزائل پروگرام کو معاہدے کا حصہ بنائے جانے کی کوششوں پر کڑی نکتہ چینی کی شروع کی گئی ہے۔