.

ڈاکٹر مرسی کی سزائے موت سے متعلق حتمی فیصلہ مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو سنائی گئی سزائے موت سے متعلق حتمی فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔

ڈاکٹر مرسی ،اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع ،نائب مرشد عام خیرت الشاطر اور جماعت کے ایک سو پانچ کارکنان کو مصر کی اس عدالت نے 16 مئی کو سنہ 2011ء کے اوائل میں ایک جیل کو توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔

عدالت نے ڈاکٹر مرسی اور ان کے ساتھیوں کو سنائی گئی سزائے موت کے فیصلے کو توثیق کے لیے ملک کے مفتی اعظم کے پاس بھیجا تھا اور اس مقدمے کا حتمی فیصلہ آج منگل کو سنا یا جانا تھا۔اب عدالت کے جج شبعان الشامی نے کہا ہے کہ جیل توڑنے کے مقدمے کا حتمی فیصلہ 16 جون کو سنایا جائے گا۔جج کا کہنا ہے کہ مفتیِ اعظم کی فیصلہ پر رائے آج صبح ہی موصول ہوئی ہے اور اس پر ابھی عدالت نے غور کرنا ہے۔

جج نے کہا ہے کہ آیندہ سماعت پر برطرف صدر اور اٹھارہ دوسرے مدعا علیہان کے خلاف جاسوسی کے الزام میں قائم مقدمے کا بھی فیصلہ سنایا جائے گا۔جاسوسی کے الزام میں کل چونتیس افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان میں سے سولہ کو پہلے ہی سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔استغاثہ کے مطابق مدعا علیہان پر الزام تھا کہ انھوں نے غیرملکی قوتوں ،فلسطینی گروپ حماس اور ایران کے ساتھ مل کر مصر کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ مصر کی سکیورٹی فورسز نے 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف لگائے گئے دو احتجاجی کیمپوں کو بزور طاقت اکھاڑ دیا تھا اور ان کے سیکڑوں حامیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

ڈاکٹر مرسی اور اخوان کے دیگر قائدین پر لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ مصر کی فوجی عدالتیں سخت اور فوری فیصلوں کے لیے مشہور ہیں اور مقدمات کی سماعت کے دوران مدعا علیہان کو بالعموم دفاع کا حق بھی نہیں دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں مصری عدالتوں کے فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں۔

قبل ازیں مصر کے مفتیِ اعظم شوقی عالم اخوان المسلمون کے مرشدعام اور ان کے تیرہ ساتھیوں کو سنائی گئی موت کی سزا مسترد کرچکے ہیں۔انھوں نے عدالت کی ہدایت کی تھی کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع اور ان کے ساتھیوں کو 19 جون 2014ء کو قاہرہ کی ایک خصوصی عدالت نے جولائی 2013ء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد پیش آئے تشدد اور ہلاکتوں کے واقعات کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔مصری قانون کے تحت سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اس کی مفتیِ اعظم سے توثیق ضروری ہے۔

سزائے موت کے فیصلوں کے خلاف مفتیِ اعظم کی رپورٹ کو بالعموم عام نہیں کیا جاتا ہے لیکن مذکورہ کیس کی سماعت کرنے والے تین ججوں میں سے ایک نے کہا تھا کہ مفتیِ اعظم نے تحقیقات اور شواہد کو سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ناکافی قرار دیا تھا۔

مگر مصری قانون کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالت نے ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے مفتیِ اعظم کی رائے کا احترام کرنے کے بجائے ان سے کہا تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔اس پر عدالت کے ایک جج کا کہنا تھا کہ ''مفتی نے مذہبی رائے نہیں دی ہے بلکہ کیس کے شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی ہے''۔