.

"ایران بشار الاسد کو بچانے کے لیے 50 ہزار جنگجو فراہم کرے"

سقوط دمشق نوشتہ دیوار دکھائی دیتا ہے: انصار حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مقرب سمجھی جانے والی شیعہ عسکری تنظیم "انصار حزب اللہ" نے خبردار کیا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے اقتدار کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ان کی حکومت بچانے کے لیے تہران کو کم سے کم 50 ہزار پیشہ ور پیادہ سپاہی مہیا کرنا ہوں گے ورنہ سقوط دمشق نوشتہ دیوار بن چکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "انصار حزب اللہ" کی ترجمان ویب سائیٹ "الثارات" پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت دمشق، الاذقیہ، ، طرطوس اور لبنان سے متصل اس اہم ترین کوری ڈور کے دفاع کے لیے فوج مہیا کرے جو اس وقت صدر بشارالاسد کی آخری دفاع لائن ہے۔ اگربروقت فوج مہیا نہ کی گئی تو بشارالاسد کو بچانا ممکن نہیں رہے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرایران کی جانب سے بروقت فوجی نفری مہیا نہ کی گئی تو پہلے مرحلے میں شامی فوج دمشق کے ہوائے اڈے پر کا کنٹرول کھو دی گی۔ دمشق بین الاقوامی ہوائی ڈے پرباغیوں کا قبضہ شامی حکومت کی شہ رگ پرہاتھ پہنچنے کے مترادف ہوگا اور اس کے بعد صدر اسد کو بچانا ممکن نہیں رہے گا۔

شام میں بھی"فیصلہ کن طوفان" آپریشن کا خدشہ

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق چیف اور گارڈین کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے ایک ہفتہ قبل ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سعودی عرب یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کی طرز پرشام میں بھی"فیصلہ کن طوفان" آپریشن شروع کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں سعودی عرب کے کسی ممکنہ آپریشن سے بچنے کے لیے "فاطمیون" بریگیڈ میں مزید افغان جنگجوئوں ک بھیجا جائے گا۔ نیز انہوں نے بتایا کہ "فاطمیون" بریگیڈ کو ترقی دے کر"فیلق" کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

جنرل رضائی کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کو بچانے کے لیے ایران کومزید بھرپور مالی امداد بھی فراہم کرنا ہوگی۔ فوجی ڈھانچے کو بھی ہرقیمت پر بچانا ہوگا اور نجی سطح پر بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والی تنظیموں کو منظم اور مربوط کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری نے 8 مئی کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تہران نے شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت بچانے اور دمشق کے دفاع کے لیے ایک لاکھ جنگجوئوں کو منظم کیا ہے اور انہیں تربیت دینے کے بعد باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں اتارا ہے۔

سیاسی میدان میں پیش رفت

صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے سیاسی سطح پرہونے والی تازہ مساعی میں ایرانی نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان کا ایک بیان ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تہران میں شام کو نو فلائی زون قرار دینے کی تجویز مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو نو فلائی زون قرار دینے سے خظے میں امن وامان کے قیام میں کوئی مدد نہیں ملے گی اور نہ ہی اس طرح کے ہتھکنڈوں سے شام کا بحران حل ہونے والا ہے۔ انہوں نے شام کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں بات چیت کی بحالی کی تجویز پیش کی۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن پچھلے چار سال میں خود کو کسی ایک ایجنڈے پرمنظم نہیں کرپائی۔ تاہم پہلی بار شامی اپوزیشن کی جانب سے متفقہ طورپر یہ کہا گیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے قبضے میں ہے۔ بشارالاسد اور ان کی حکومت محض ایران کی کٹھ پتلی ہیں۔ شام میں اصل حکومت ایرانی پاسداران انقلاب کی ہے اور محاذ جنگ پربھی شامی فوج کے بجائے پاسداران انقلاب ہی لڑ رہے ہیں۔