.

فلسطین اسرائیل امن مذاکرات دوبارہ بحال کئے جائیں: بین کی مون

'اقوام متحدہ مسئلہ فلسطین کا سیاسی حل نکالنے میں ناکام رہی ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے فلسطینی مہاجرین کی بہبود کے لئے کام کرنے والی ذیلی تنظیم انروا کے 65 ویں یوم تاسیس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اپیل کی کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے یکطرفہ فیصلوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

بین کی مون نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انروا کو 65 سال تک قائم نہیں رہنا تھا مگر اس کی ابھی تک موجودگی سیاسی ناکامی کا مظہر ہے۔

انروا کے کمشنر جنرل پیئیر کراھینبول نے بتایا ہے کہ خطے میں 50 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ فلسطینی مہاجرین موجود ہیں جو کہ سنگاپور یا ناروے کی آبادی کے برابر ہیں۔

کمشنر کے مطابق فلسطینی مہاجرین کو کئی محاذوں پر اپنی سلامتی کے لئے لڑنا پڑ رہا ہے جن میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ، مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے گرفتاری کے خطرے تلے رہنا اورشامی دارالحکومت دمشق کے باہر موجود یرموک مہاجر کیمپ میں بے رحمانہ محاصرے اور تشدد میں گھرے فلسطینی شامل ہیں۔

کراھینبول نے کہا کہ"65 فیصد رجسٹرڈ فلسطینی مہاجرین 25 سال سے کم عمر اور تعلیم یافتہ مگر بے روزگار ہیں۔ ان کے مطابق فلسطینی نوجوان ہمت اور عزم رکھتے ہیں مگر ان کے لئے بہت کم مواقع میسر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے حالات کے نتیجے میں بہت سے افراد کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں وہ بحیرہ روم کو پار کرنے کے خطرناک راستوں کا استعمال کریں گے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی نمائندہ خصوصی حنان اشراوی نے بتایا ہے کہ مہاجر آبادی اب چار نسلوں پر پھیل چکی ہے اور یہ مزید پھیل رہی ہے اور اس پر مسلط مشکلات کم نہیں ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تاریخ کی سب سے طویل تسلط کو برداشت کرنے اور تقریبا سات دہائیوں تک بے دخلی کو برداشت کرنے کے باوجود ان کی قومی شناخت بہت مضبوط ہے۔

اسرائیل کے اقوام متحدہ میں نائب سفیر ڈیوڈ روئٹ نے انروا پر الزام لگایا کہ وہ فلسطین کی حمایت میں سیاسی ایجنڈا رکھتی ہے جو کہ اس کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کاموں کے اختیار سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی جانب سے حق واپسی کا دعویٰ اسرائیلی ریاست کی تباہی کا نعرہ ہے۔