.

جوہری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری تنازعے کو طے کرنے کے لیے حتمی معاہدے پر بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے مذاکرات کے نئے دور کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں آمد کے موقع پر کہا ہے کہ ''ہم نے معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے لیکن ابھی کام جاری ہے''۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔اب مجوزہ حتمی معاہدے کے فریم ورک سمجھوتے کے تحت قواعد و ضوابط وضع کیے جارہے ہیں۔

گذشتہ اختتام ہفتہ پر سوئس شہر جنیوا میں امریکا اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم مذاکرات میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت ہوسکی تھی اور نہ اختلافات ختم کیے جاسکے تھے۔ طرفین کے درمیان ایران کی فوجی تنصیبات کے معائنے سے متعلق امور پر اختلافات برقرار ہیں۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ فوجی نوعیت کے حوالے سے بھی اختلافات بدستور موجود ہیں جبکہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکا ،روس ،چین ،برطانیہ اور فرانس اور مذاکراتی عمل میں شامل چھٹا ملک جرمنی ایران کی فوجی تنصیبات اور اڈوں تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

عباس عراقچی نے گذشتہ ہفتے جنیوا میں مذاکرات سے قبل کہا تھا کہ ''مجوزہ حتمی معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو ایرانی سائنس دانوں سے پوچھ تاچھ اور فوجی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا''۔

طرفین نے جوہری تنازعے پر حتمی معاہدے کے لیے 30 جون کی ڈیڈلائن مقرر کررکھی ہے۔اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کردے گا اور وہ یورینیم کو اعلیٰ سطح پر افزودہ کرنے کی صلاحیت سے دستبردار ہوجائے گا جبکہ اس کے بدلے میں اس پر امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے عاید کردہ کڑی اقتصادی پابندیاں ختم کردی جائیں گی۔