.

یمنی حکومت کا جنیوا مذاکرات میں شرکت کا اعلان

یمنی فریقوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں 14 جون کو مذاکرات کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں متعیّن یمنی سفیر خالد الیمنی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ مذاکرات چودہ جون کو شروع ہوں گے اور اقوام متحدہ سرکاری طور پر بہت جلد اس تاریخ کا اعلان کرنے والی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بعض رکن ممالک ان مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں۔یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے بدھ کو سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں رکن ممالک کو تازہ صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔

اجلاس کے بعد انگولا میں اقوام متحدہ کے سفیر اسماعیل ابراؤ گاسپار مارٹنز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ مذاکرات چودہ جون ہی کو ہوں گے۔اسماعیل ولد شیخ احمد نے قبل ازیں 28 مئی کو جنیوا میں یمنی فریقوں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی لیکن یمنی حکومت اور دوسرے فریقوں کی جانب سے مزید وقت دینے کی درخواست کے بعد ان مذاکرات کو ملتوی کردیا گیا تھا۔

سعودی دارالحکومت الریاض میں مقیم یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ایک مشیر نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا تھا کہ صدر نے مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا جانے سے اتفاق کیا ہے۔حوثی باغیوں کے نائب کمان دار نے بھی کہا ہے کہ وہ جنیوا جانے کے لیے تیار ہیں۔

سفیر خالد الیمنی کا کہنا تھا کہ اگر حوثی مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہیں تو معاملات بآسانی آگے بڑھ سکتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون جنیوا مذاکرات کا آغاز کریں گے۔اس کے بعد ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد ایک ہی کمرے میں اور ایک میز پر یمنی فریقوں اور ان کے حامیوں سے ملاقات کریں گے۔

اقوام متحدہ میں متعین روسی سفیر ویٹالے چرکین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھوں نے بدھ کو یمن کی صورت حال پر غور کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ روس کو جنیوا مذاکرات میں تاخیر اور یمن میں جاری جنگ ،خاص طور پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملوں کے شہری آبادی پر اثرات کے حوالے سے گہری تشویش لا حق ہے۔

انھوں نے کہا کہ بمباری مہم کے شہری آبادی پر ڈرامائی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔حتیٰ کہ ثقافتی اور تاریخی عمارتوں وآثار پر بھی اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔تمام فریقوں کو ضبط وتحمل کی ضرورت ہے اور انھیں تشدد کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

مسٹر چرکین نے بین کی مون اور اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے نئے سربراہ اسٹیفن او برائن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں انسانی بنیاد پر جنگ بندی کے ایک اور وقفے کے لیے کوششیں جاری رکھیں اور انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے سہولت کنندہ کا کردار ادا کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل یمن بحران کے حل کے لیے مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے پر زوردیتے چلے آرہے ہیں اور وہ انسانی بنیاد پر دوبارہ جنگ بندی کے مطالبہ کررہے ہیں تاکہ جنگ سے متاثرہ یمنیوں کو ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد بہم پہنچائی جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے گذشتہ ماہ پانچ روز کے لیے جنگ بندی کی تھی اور یمن میں حوثی باغیوں پر فضائی حملے روک دیے تھے۔اس دوران عالمی امدادی اداروں نے جنگ سے متاثرہ یمنیوں کو انسانی امداد بہم پہنچائی تھی لیکن حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں بار بار گولہ باری اور یمن کے مختلف شہروں میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے ساتھ لڑائی کے پیش نظر اس جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں کی گئی تھی۔