.

'سعودی شہریوں کو بادشاہ کے خلاف عدالت جانے کا حق'

کوئی شخص قانون سے بالا تر نہیں: شاہ سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ مملکت کے کسی بھی شہری کو بادشاہ اور ولی عہد سمیت شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف کوئی شکایت ہو تو وہ عدالت کا درازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کی رو سے کسی کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے اور سب لوگ برابر ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز جدہ میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اجلاس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف بن عبدالعزیز بھی موجود تھے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے کہا کہ بعض ممالک کے باد شاہوں اور سربراہان مملکت کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور کوئی عام شہری ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی نہیں کرسکتا۔ یہاں ایسا نہیں ہے۔ کوئی بھی سعودی شہری جسے بادشاہ، ولی عہد یا حکمران خاندان کے کسی فرد کے خلاف کوئی شکایت ہو تو وہ عدالت میں دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔

شاہ سلمان نے یاد دلایا کہ آل سعود کے بانی اور ملک کے پہلے فرمانروا شاہ عبدالعزیزکے خلاف بھی عدالت میں ایک دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔ الشیخ سعد بن عتیق اس وقت ریاض کے چیف جسٹس تھے۔ وہ شاہ عبدالعزیز کےپاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک شہری نے ان کے خلاف دعویٰ دائر کیا ہے۔ شاہ سلمان نے انہیں بٹھایا اور جج نے وہیں پر مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان مقدمے کا فیصلہ سنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ عبدالعزیز نے ہمارے لیے اپنی ذات سے مثال قائم کردی ہے اس کے بعد کوئی بھی عہدیدارحتیٰ کہ بادشاہ مملکت ، ولی عہد اور شاہی خاندان کا کوئی فرد بھی آئین سے بالا نہیں ہے۔

شاہ سلمان نے کہا کہ کتاب اللہ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کا طریقہ ہمارا دستور ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اسلام کے سائے میں امن و استحکام کی زندگی بسرکررہے ہیں۔ میں تمام شہریوں کو کہتا ہوں کہ اگر وہ ہم میں کوئی خامی دیکھیں تو ہمارے دروازے ان کے لیے ہروقت کھلے ہیں وہ آئیں۔ ہمارے ساتھ بیٹھیں۔ ہم ہرشکایت کا ازالہ کریں گے۔

شاہ سلمان نے عوام اور حکمران طبقے کو کتاب اللہ اورسنت رسول پرعمل کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ ہرشخص اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احساس جوابدہی کے ساتھ انجام دے۔

الملك سلمان