.

باب المندب میں عرب اتحادی فوج کی شدید بمباری: العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں یمن کی دستوری حکومت کی حمایت میں باغیوں کے خلاف سرگرم عرب اتحادی فوج نے تعز شہر کے علاقے باب المندب میں حوثی علاقوں پر نئے فضائی حملے کئے ہیں۔

اتحادی فوج نے صنعاء میں بھی معزول صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی ملیشیا کے فوجی کیمپوں پر اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں۔ حوثیوں کے گڑھ صعدہ میں ری پیبلیکن گارڈز کے فوجی کیمپ اور عمران گورنری میں 127 بریگیڈ کے کیمپوں پر بمباری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ بمباری کے ساتھ حوثی باغیوں اور عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے جنگجووں کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع بھی جاری ہے.

عوامی مزاحمت کمیٹیوں میں شامل اہلکاروں کا دعوی ہے کہ انہوں نے تعز اور الضالع کے علاقوں میں باغیوں سے لڑائی کے دوران متعدد حوثیوں کو ہلاک جبکہ دسیوں کو دوسرے محاذوں پر جاری لڑائی میں گرفتار کیا ہے۔ ان میں شبوہ اور ابین کے محاذوں پر ہونے والی لڑائی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

عمران اور تعز کے درمیان باغیوں کی امداد لیکر جانے والے باغیوں کے قافلوں پر اتحادی طیاروں نے بمباری کی ہے۔ حجہ کے علاقے میں بھی ایسی ہی بمباری کی اطلاعات ہیں۔

عوامی مزاحمتی ملیشیا کے جنگجووں نے البیضاء گورنری کے رداع علاقے میں باغیوں کے ایک اسٹیشن پر حملہ کر کے حوثی ملیشیا کے دسیوں اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔ یہ حملے عوامی مزاحمت کاروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں گھات لگا کر کئے۔

الضالع کے علاقے میں دوبارہ داخلے کی کوشش میں حوثی باغی علاقے میں نئی افرادی کمک ارسال کر رہے ہیں۔ سناح کے علاقے میں عوامی مزاحمتی جنگجووں نے باغی ملیشیاوں کے 11 افراد کو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے جن میں سابق صدر کی حامی فوج کے دو افسر بھی شامل ہیں۔ ایسے ہی 27 افراد کو عدن میں گرفتار کئے جانے کی اطلاع ہے۔ شمال سے لیکر جنوبی یمن کے تمام محاذ گرم ہیں۔ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات سے پہلے فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جسے دیکھ کر بعض حلقے حوثیوں کی بحران حل کرنے کی نیت پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔