.

ترکی میں پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں پارلیمانی انتخابات کے لیے آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔صدررجب طیب ایردوآن کی قیادت میں حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) اور حزب اختلاف کے درمیان ان پارلیمانی انتخابات میں سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

آق گذشتہ بارہ سال سے ترکی کی حکمران چلی آرہی ہے اور صدر طیب ایردوآن نے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے خواہاں ہیں تاکہ وہ پارلیمان میں اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں طاقتور صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے ملکی آئین میں ترامیم کرسکیں۔وہ امریکا کی طرز کا صدارتی نظام چاہتے ہیں تاکہ ترکی کے خطے میں اثرورسوخ کو بڑھایا جاسکے اور معاشی طور پر مضبوط کیا جاسکے۔

انھوں نے شمال مشرقی صوبے عرضحان میں ہفتے کے روز ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''وہ یہ کہتے ہیں:اگر ایردوآن نے اتوار کو وہ کچھ حاصل کر لیا، جو وہ چاہتے ہیں تو پھر انھیں روکنا مشکل ہوگا۔ان کا دراصل مطلب یہ ہے کہ ترکی کو روکنا مشکل ہوگا''۔

آئین کے تحت ترک صدر کو جماعتی سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے لیکن اس کے باوجود وہ وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کے ساتھ اپنے جماعت کی انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے رہے ہیں اور حزب اختلاف پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ان دونوں لیڈروں نے پارلیمانی انتخاب کو جدید اور قدیم ترکی میں سےایک کا چناؤ قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ قدیم ترکی سے مراد ماضی میں مختصر مدت کے لیے قائم ہونے والی مخلوط حکومتوں کی تاریخ کو دُہرایا جانا ہے جس کے دوران بار بار فوجی سربراہان آمادہ بغاوت ہوجاتے تھے اور ملک اقتصادی طور پر عدم استحکام کا شکار تھا۔

احمد داؤد اوغلو نے جنوبی شہر انتالیہ میں ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''یاتو گذشتہ بارہ سال کے دوران آنے والا استحکام جاری رہے گا یا پھر ان لوگوں کا بحرانی منظرنامہ ہوگا جو ترکی کو دوبارہ 1990ء کے عشرے کی طرح بحران کا شکار کرنا چاہتے ہیں اور طوائف الملوکی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں''۔