.

لیبیا کے متحارب فریق دلیرانہ سیاسی فیصلے کریں:جی 7

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے سات بڑے صنعتی ملکوں کے لیڈروں نے لیبیا کے متحارب دھڑوں پر زوردیا ہے کہ وہ ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے دلیرانہ سیاسی فیصلے کریں۔

جرمنی میں گروپ سات کے سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ''لڑائی کا وقت لد چکا،اب دلیرانہ سیاسی فیصلے کرنے کا وقت آگیا ہے''۔

بیان میں مراکش میں لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان امن بات چیت کے نئے دور کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ''لیبی لیڈر اس موقع سے فائدہ اٹھائیں،ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنائیں اور ملک میں قومی اتحاد کی حکومت قائم کریں جو لیبی عوام کو جواب دہ ہو''۔

اس وقت لیبیا میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں۔خانہ جنگی کا شکار ملک کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے مشرقی شہروں طبرق اور البیضاء میں دفاتر قائم کررکھے ہیں جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا نے گذشتہ سال سے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔

اب مراکش میں ان دونوں متحارب حکومتوں اور دوسرے سیاسی گروپوں کے نمائندوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات ہورہے ہیں۔مغربی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ہی لیبیا میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل اور دونوں حکومتوں کے تحت مسلح فورسز کے درمیان لڑائی کے خاتمے کی واحد امید ہیں۔

لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کے گذشتہ ادوار میں مشترکہ حکومت کے قیام کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی مگر اب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ دور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے مشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''مشن کو لیبی عوام کی جانب سے ہزاروں پیغامات موصول ہوئے ہیں۔انھوں نے اپنے ملک میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔وہ مذاکرات کی فوری بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں اور اس امید کا اظہار کررہے ہیں کہ لیبیا کا سیاسی دھڑے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے''۔

اقوام متحدہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''مراکش میں جاری اجلاس کے دوران سیاسی جماعتوں کی آراء اور تجاویز کی روشنی میں سیاسی سمجھوتے کا نیا مسودہ تیار کیا جائے گا''۔