.

کرد، قومی جماعتوں نے ایردوآن سے اتحاد مسترد کر دیا

حکمران جماعت کا مطلق العنان صدارتی حکمرانی کا خواب چکنا چور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بلا شرکت غیر اقتدار میں رہنے والی ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں سامنے آنے والے نتائج کے بعد اب شاید حکومت بنانے کے اتحادی بھی دستیاب نہ ہوں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران تمام بڑی جماعتوں نے حکمران جماعت سے اتحاد بنانے کے امکان کو رد کیا تھا۔

انتخابی نتائج کے مطابق حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو 41 فیصد ووٹ ملے ہیں جس کی بنیاد پر اسے پارلیمنٹ میں 258 نشستیں مل پائیں گی جو سادہ اکثریت کے لیےمطلوبہ تعداد سے 18 نشستیں کم ہیں۔

تاہم اکثریت کھونے کے باوجود حکمران پارٹی کے رہنما اور ملک کے وزیرِ اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ہر کسی کو یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے الیکشن جیتا ہے۔ انھوں نے دیگر جماعتوں سے اپیل کی وہ نئے آئین کی تیاری کے عمل میں شامل ہوں۔

ان انتخابات میں کرد نواز جماعت ايچ ڈی پی نے توقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی ہے اور اس نے نہ صرف پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لیے 10 فیصد مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کی حد عبور کی بلکہ 13 فیصد ووٹ حاصل کر کے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔

انتخابی نتائج سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کے لیے ایک دھچکا ہیں اور ان کا ملک میں صدارتی نظام جمہوریت کو متعارف کرانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔

انتخابی نتائج سابق وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کے لیے بھی ایک دھچکا ہیں۔ صدر طیب ایردوآن کو آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت چاہیے تھی جو ان کی جماعت حاصل نہیں کر سکی۔

کرد نواز جماعت ايچ ڈی پی کی نائب سربراہ ثریا اوندر نے اپنی پارٹی کی کامیابی پر کہا کہ ’جمہوریت نے سیاسی کرپشن کو شکست دی ہے۔‘ ایچ ڈی پی کو اپنے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے 75 سے 80 پارلیمانی نشستیں مل سکتی ہیں۔

ایچ ڈی پی کے سربراہ صلاحدین دمیترس نے حکمران جماعت سے حکومتی اتحاد بنانے کے امکان کو رد کیا ہے۔ صلاح الدید دیمرتاس نے کہا کہ انتخابی نتائج نے صدارتی نظام حکومت کے بارے میں بحث کو ختم کر دیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی سی ایچ پی نے 25 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور اس طرح وہ پارلیمنٹ میں دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔