.

یورپی یونین نے حوثی لیڈر پر پابندیاں عاید کردیں

حوثی ملیشیا کی معاونت پر سابق یمنی صدر کے بیٹے احمد علی صالح کے اثاثے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف برسرپیکار حوثی ملیشیا کے لیڈر عبدالملک الحوثی پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔

یورپی یونین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپریل میں منظور کردہ قرار داد نمبر 2216 کے تحت عبدالملک الحوثی پر سفری پابندیاں عاید کی ہیں،ان کے تنظیم کے رکن ممالک میں موجود اثاثے منجمد کر لیے ہیں اور ان پر اسلحے کے حصول پر بھی پابندی ہوگی۔

یورپی یونین کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی صالح کے خلاف بھی حوثی ملیشیا کی معاونت پر پابندیاں عاید کر دی گئی ہیں۔احمد علی نے حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد قائم کررکھا ہے اور ان کی قیادت میں یمن کے سابق ری پبلکن گارڈز نے حوثیوں کی جنوبی یمن کی جانب پیش قدمی اور شہروں پر قبضے میں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یمن کے ان دونوں باغی لیڈروں پر یورپی تنظیم کی جانب سے ایسے وقت میں پابندیاں عاید کی گئی ہیں جب خانہ جنگی کا شکار ملک کے متحارب دھڑے 14 جون کو اقوام متحدہ کی نگرانی اور ثالثی میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی تیاری کررہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''یورپی یونین حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کی جانب سے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے یک طرفہ اقدامات کی مذمت کرتی ہے اور ان کی فورسز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر تشدد کے استعمال سے باز آجائیں''۔

قبل ازیں یورپی یونین نے دسمبر میں حوثی باغیوں کے دو لیڈروں عبداللہ یحییٰ الحکیم اور عبدالخالق الحوثی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح پر سفری پابندیاں عاید کی تھیں اور ان کے اثاثے منجمد کر لیے تھے۔