.

جینوا مشاورت کا ہدف بغاوت ناکام بنانا ہے: خالد بحاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اعظم خالد بحاح نے مملکت سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کا اس تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے جو یمنی عوام اور ریاست کو ان ملکوں کی جانب سے بحران کے حالیہ دور میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن بحران کے حل کی خاطر جنیوا مذاکرات اقوام متحدہ کی قراردار 2216 کے فریم ورک میں ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمنی حکومت اور دیگر قومی سیاسی جماعتیں جنیوا مذاکرات میں ایک قومی پارٹی کے طور پر شرکت کے لئے تیار ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد بغاوت کے منصوبے کو رول بیک کرنا اور بین الاقوامی اتھارٹی کو بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا اجلاس کی نوعیت مذاکراتی نہیں بلکہ مشاورتی ہے۔ اس کا مقصد پہلے سے جاری خلیجی کوششوں، قومی کانفرنس اور بین الاقوامی فیصلوں پر عمل درآمد کی راہیں تلاش کرنا ہے۔

یمنی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ طاقت کے توازن میں خلل پیدا ہونے کا نتیجہ ہے۔ باغی ملیشیا کے جنگجووں کا ہر اقدام ملک میں نفرت اور تقسیم کو ہوا دے رہا ہے۔

سعودی دارلحکومت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد بحاح کا کہنا تھا کہ تاریخ باغیوں کے لئے رحمدل ثابت نہیں ہو گی کیونکہ انہوں نے یمن میں فساد پیدا کیا ہے۔ انہوں نے فوجی افسروں پر زور دیا کہ وہ دستوری اور آئینی سیٹ اپ کا حصہ بنیں کیونکہ قومی وحدت سے ہی یمن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔