.

صنعاء میں باغیوں کے ٹھکانوں پر اتحادیوں کی بمباری

منگل کو ہونے حملوں میں حوثی ملیشیا کے متعدد اسلحہ گودام تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتحادی طیاروں نے منگل کے روز بھی یمن کی باغی ملیشیا کے اسلحہ گودام اور فوجی ٹھکانوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔

فضائی حملوں کے ساتھ میدان جنگ میں صالح اور حوثی ملیشیا کا مقابلہ عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے جنگجو دلیری سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں حوثی ملیشیا کے اہم کمانڈر اور جنگجووں کی بڑی تعداد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایک طرف اتحادی عرب فوج کے فضائی حملے اور دوسری جانب مزاحمتی کمیٹیوں کے جنگجووں نے میدان جنگ میں حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کو ایک کے بعد دوسرا بڑا جانی اور مالی نقصان پہنچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

اتحادی لڑاکا طیاروں نے عدن گورنری کے علاقے بئر احمد میں حوثیوں کے ایک ٹھکانے پر بم برسائے جس کے نتیجے میں انقلابیوں کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ادھر دارلحکومت صنعاء میں اتحادی طیاروں نے یمنی وزارت دفاع کی عمارت پر تین حملے کئے۔ اس کے علاوہ اسلحہ گودام اور باغی ملیشیا کے ٹھکانوں کو بھی منگل کے روز علی الصباح کی جانے والی بمباری میں نشانہ بنایا گیا۔

سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع یمن کے ججہ شہر پر اتحادی طیاروں کی نیچی پروازیں جاری ہیں جنہوں نے علاقے میں حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بمباری میں صعدہ، الجوف اور تعز کے علاقے میں بھی حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے پہلے اتحادی طیاروں نے حوثی ملیشیا کے ہمنوا جنرل علی الذفیف کے گھر پر تین فضائی حملے کئے۔ لڑاکا طیاروں نے صنعاء کی شارع الجزائر پر واقع معزول صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی کے گھر کو نشانہ بنایا۔

درایں اثناء مزاحمتی کمیٹیوں کے جنگجووں نے پیر کی شب حوثی جنگجووں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں جن میں الضالع گورنری کے شمالی علاقے تلہ صلاح میں باغی ملیشیا کے اہم فیلڈ کمانڈر زکریا عسکر سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔