.

عراقی فوج بیجی کی سمت بڑھ رہی ہے: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج شمالی بغداد کے شہر بیجی میں داعش کو پسپا کرتے ہوئے پیش قدمی کر رہی ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ شہر انتہا پسندوں کے قبضے سے 'آزاد' کرا لیا گیا ہے۔

فوجی ترجمان کرنل سٹیفن وارن کے مطابق عراق کی سرکاری فوج الحشد الشعبی نامی شیعہ ملیشیا نے شہر میں داخل ہونا شروع کیا ہے۔ وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وہاں پر متمرکز دشمن کو بے دخل کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ شہر پر حملہ کرنے والی بڑی اکثریت کا تعلق ملیشیاوں سے ہی ہے۔

کرنل سٹیفن کا مزید کہنا تھا کہ عراقی فوج کی زیر قبضہ بیجی آئل ریفائنری میں صورتحال اب بہتر ہو گئی ہے، تاہم داعش کے شدت پسندوں سے اسے کئی مہینوں سے گھیر رکھا ہے۔

"عراقی فوج نے چند دن قبل ریفائنری کی سمت ایک نیا راستہ کھولا ہے جس کے ذریعے محاصرہ زدہ فوجیوں تک امداد پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔" اس کے باوجود آئل ریفائنری دونوں فریقوں کی دلچسپی کا موضوع بنی چلی آ رہی ہے۔

ادھر امریکی سینٹرل کمان کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے بیجی کے علاقوں میں تین حملے کئے، جن کا نشانہ داعش کے ٹھکانے بتائے گئے ہیں۔

عراقی فوج نے دارلحکومت اور موصل کے درمیان بغداد سے دو سو کلومیٹر شمال میں واقع اس شہر کا کںڑول گذشتہ برس واپس لیا تھا، تاہم بعد میں داعش نے دوبارہ بیجی کا کںڑول حاصل کر لیا تھا۔ امسال اپریل میں دوبارہ داعش نے بیجی پر دوبارہ حملہ کیا جس کے بعد سے ابتک اس اہم ریفائنری کی حفاظت کرنے والے سرکاری فوجی دستوں کے ساتھ ان کی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بیجی ریفانئنری کا شمار عراق میں تیل صاف کرنے والے بڑے کارخانوں میں ہوتا ہے۔ پرتشدد کارروائیوں سے پہلے یہاں تین لاکھ بیرل تیل روزانہ صاف کیا جاتا تھا جو ملک میں توانائی کی نصف ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی تھا۔

عراقی فوج نے چند ماہ قبل جہادیوں سے یہ علاقوں واپس لیا تھا، تاہم انتہا پسند داعش مئی سے موصل اور الانبار کے صدر مقام الرمادی پر ایک مرتبہ پھر داعش کے شدت پسندوں کا قبضہ ہے۔