.

داعش پر خواتین سے ناروا سلوک کے سنگین الزامات

سخت گیر جنگجوؤں نے زیر قبضہ علاقوں میں غلامی کی مںڈیاں کھول رکھی ہیں: یو این ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار دولت اسلامیہ (داعش) کے عورتوں سے ناروا سلوک سے متعلق نئی تفصیل سامنے آئی ہے اور اقوام متحدہ کی جنسی تشدد کے بارے میں خصوصی ایلچی زینب بنجورا نے الزام عاید کیا ہے کہ ''داعش کے جنگجوؤں نے عراق اور شام میں کم سن لڑکیوں کو اغوا کے بعد سگریٹ کی ایک ڈبیا تک کے بدلے میں غلامی کی مارکیٹوں میں فروخت کردیا تھا۔

زینب بنجورا نے اپریل میں شام اور عراق کا دورہ کیا تھا۔وہ اس کے بعد سے داعش کے جنگجوؤں کی جانب سے عورتوں کے خلاف جنسی تشدد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک لائحہ عمل پر کام کررہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ''یہ ایک ایسی جنگ ہے جو عورتوں کے جسموں پر لڑی جا رہی ہے''۔

اقوام متحدہ کی اس خصوصی نمائندہ نے داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے بھاگ جانے والی خواتین اور لڑکیوں سے گفتگو کی تھی،مقامی مذہبی اور سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کی تھیں اور ترکی ،لبنان اور اردن میں مہاجر کیمپوں کے دورے بھی کیے تھے۔

انھوں نے اس دورے کے بعد داعش پر سنگین الزامات عاید کیے ہیں اور کہا کہ داعش کے جنگجوؤں نے غلاموں کی خرید وفرخت کی مارکیٹیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور انھوں نے حالیہ کارروائیوں کے دوران لڑکیوں کو اغوا کیا ہے لیکن لڑکیوں کو اغوا کے بعد باندیاں بنانے کے کوئی اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔

اس خاتون نے یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ ''داعش کے جنگجو جب نئے علاقوں پر قبضہ کرتے ہیں تو وہاں سے عورتوں کو اغوا کر لیتے ہیں۔ان کے لیے نئی لڑکیاں دستیاب ہوجاتی ہیں اور وہ ان لڑکیوں کو چند سو یا چند ہزار ڈالرز سے لے کر سگریٹ کی ایک ڈبیا تک کے بدلے میں بھی بیچ دیتے ہیں''۔

بنجورا نے عراق کے شمالی علاقے میں یزیدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے عورتوں کے اغوا کی تفصیل بیان کی ہے۔انھیں ان کے بہ قول اکٹھے ایک کمرے میں بند کردیا جاتا تھا یا پھر ایک چھوٹے گھر میں سو سے زیادہ عورتوں کو اکٹھے رکھا جاتا تھا۔پھر انھیں مردوں کے سامنے کھڑا کیا جاتا تھا اور وہ ان کی قیمت لگاتے تھے۔

انھوں نے داعش کے جنگجوؤں پر یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ وہ غیرملکیوں کو لبھانے کے لیے لڑکیوں کو اغوا کرتے ہیں اور انھیں یہ باور کراتے ہیں عراق اور شام میں یہ دوشیزائیں ان کی منتظر ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت عراق اور شام میں ایک سو سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے قریباً پچیس ہزار جنگجو لڑرہے ہیں۔

عالمی ایلچی نے جہادیوں کے لڑکیوں اور عورتوں سے مبینہ ناروا سلوک کو قرون وسطیٰ کے دور کی مشق کا اعادہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ داعش تیرھویں صدی عیسوی کا عکاس معاشرہ تشکیل دینا چاہتی ہے۔

انھوں نے یزیدی کمیونٹی کے لیڈر کی جانب سے داعش کے چنگل سے بچ کر آنے والی لڑکیوں کی بحالی کے لیے کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ترکمن قیادت کی جانب سے ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔انھوں نے حال ہی میں یورپی ملکوں کا دورہ کیا تھا اور وہاں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین سے ناروا سلوک کے خاتمے اور جنسی تشدد کا شکار خواتین کی بحالی کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔