.

ایران:قیدی مائوں کے ساتھ 400 شیرخواربھی پابند سلاسل!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سیاسی بنیادوں اور بعض دیگر وجوہات کی بناء پرجیلوں میں ڈالی گئی ہزاروں خواتیں میں سے 426 شیرخواروں کی مائیں بھی شامل ہیں جن کے بچے قید خانوں میں ان کے ہمراہ پابند سلاسل ہیں۔

خبر رساں ایجنسی"ایسنا" نے اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والی "دفاع اسیران" کمیٹی کے ڈائریکٹر نصیری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایران کی مختلف جیلوں میں قید چار سو چھبیس خواتین کے ساتھ ان کے دو سال سے کم عمرکے شیرخوار بھی پابند سلاسل ہیں۔

نصیری نے بتایا کہ ان کی تنظیم جیلوں میں قید بچوں کو نرسری کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے آذربائیجان صوبے کی "ارومیہ" جیل میں چھ سال قبل بچوں کی بہبود کے لیے ایک نرسری سینٹرقائم کیا جس میں 25 بچوں کی دیکھ بحال کی جاتی تھی۔

ارومیہ جیل میں نرسری سینٹر کے کامیاب تجربے کو رامین، کرج، بیرجند، کرمان، اراک اور خراسان گورنری کی جیلوں میں بھی آزمایا جہاں مجموعی طورپر 6سینٹرقائم کیے گئے۔

مسٹرنصیری نے بتایا کہ جیل میں قید بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہے۔ خاص طورپر کسی جیل میں شیرخواروں کی بحالی کا مرکز قائم کرنا اورانہیں خوراک فراہم کرنا زیادہ ہی مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے۔ بنیادی طورپر یہ ریاست کا کام ہے کیونکہ قیدی بھی شہری حقوق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم سن بچوں کی نگہداشت اور بحالی کے لیے مراکز کا قیام بنیادی طورپر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگرچہ حکومت نے "بحالی اور دیکھ بحال" مرکزبھی قائم کررکھا ہے مگراس میں بڑی عمرکے بچوں کو رکھا جاتا ہے۔

خراسان میں قائم خواتین کی ایک جیل کی ڈائریکٹر معصومہ جنکی نے بتایا کہ ان کی زیرنگرانی جیل میں 70 مائوں کے ہمراہ دو سال سے کم عمرکے بچے قید ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک خاتون اپنے شیرخواربچے کے ہمراہ جیل میں آئی اور اب اس کا بیٹا 12 سال کا ہوچکا ہے جو تاحال جیل میں پابند سلاسل ہے۔

ایک دوسری خاتون فریبا بیابانی نے بتایا کہ "شہر ری" شہر میں قائم جیل میں 20شیر خوار موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شیرخوارگی کے بعد بچوں کو ان کی مائوں سے الگ کردیا جاتا جس کے نتیجے میں ماں اور بچہ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ بچے کو قیدی ماں کے ساتھ کم سے کم چھ سال تک رکھنا چاہیے، اس کے بعد سرکاری بحالی مرکز میں لے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔