.

'داعش مخالف کارروائیوں میں کمان سنٹرز کو نشانہ بنایا جائے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے چیف آف آرمی سٹاف ڈینس مرسیئر کا کہنا ہے کہ امریکا کی سربراہی میں دولت اسلامیہ عراق وشام کے خلاف فوجی کارروائی کے لئے بننے والے اتحاد کو جہادیوں کے انتہاپسند تنظیم کے کمان سنٹرز پر حملے کرنے چاہئیے ہیں مگر ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے عراق اور عراق میں جاری آپریشنز کو لیبیا میں 2011ء میں کی جانیوالی بین الاقوامی مداخلت سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے لیبیا میں معمر قذافی کے کمان سنٹرز نہ کہ 150 ٹرکوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ہم مطلوبہ نتائج جلد ازجلد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو معمر قذافی ابھی تک لیبیا میں موجود ہوتے۔"

ان کا کہنا تھا "ابھی عراق میں بھی ہمیں ایسی ہی مصیبت کا سامنا ہے۔ ہم فرنٹ لائن پر بمباری کررہے ہیں مگر ہمیں ان کے کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ اس کام کی راہ میں مشکل اس بات کی ہے کہ ان کمانڈ سنٹرز میں سے اکثر شام میں واقع ہیں۔

فرانس نے دمشق میں قابل اعتماد سیاسی تبدیلی تک شام میں داعش کے خلاف بمباری کی مہم میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔

شام میں داعش پر بمباری کرنے والے واشنگٹن اور اس کے عرب اتحادیوں کو ایک نازک صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوںکہ وہ بشار الاسد کی حزب اختلاف کے خلاف جنگ پر اثر انداز ہوئے بغیر انتہاپسندوں کے خلاف کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔

مرسئیر نے اتحادی افواج کی بمباری کا داعش پرکوئی اثر نہ ہونے کے حوالے سے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا "اگر ہم اس موقع پر کارروائی نہ کرتے تو اس وقت تک تمام علاقے بغداد وغیرہ داعش کے قبضے میں جاچکے ہوتے۔ ان فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں عراقی افواج زمینی کارروائیوں کے لئے آزادی سے نقل وحرکت کرسکتی ہیں۔"

انہوں نے شیعہ اور سنی جنگجوئوں کے درمیان تنائو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ "اب گیند کسی حد تک ان کے کورٹ میں ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اب زمینی جنگ کے لئے ہمیں ایسی عراقی افواج میسر ہیں جو کہ مختلف برادریوں میں موجود فرق کی وجہ سے متنازعہ ہوچکی ہیں۔"

فرانسیسی فوج کے مطابق اس کے جہازوں نے 135 فضائی کارروائیاں کی ہیں جن کے نتیجے میں 200 نشانے تباہ کئے جاچکے ہیں۔ مرسئیر کا کہنا تھا "ہم فضائی کارروائیوں کی بہت بات کرتے ہیں مگر ہمارا سب سے بڑا تعاون انٹیلی جنس فراہم کرنے کا ہے۔