.

خامنہ ای سے تلخ کلامی، مہدی رفسنجانی کو 10 سال قید کا موجب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے مذہبی سیاسی پنڈتوں میں آئے روز سامنے آنے والے اختلافات کے باعث ایک دوسرے کو بھرپور انتقام کا نشانہ بنانے کی روایت کچھ زیادہ ہی زور پکڑتی جا رہی ہے۔ حال ہی میں گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مابین بالواسطہ طور پر بعض امور پر ایک دوسرے سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ اس تلخ نوائی کے چند ہی روز بعد رفسنجانی کو اس کا خمیازہ بیٹے مہدی ہاشمی کی 10 سال کے لیے قید کی خبر کی صورت میں بھگتا پڑا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی جوڈیشل کونسل کے ترجمان حجۃ الاسلام غلام حسین محسنی ایجی کا کہنا ہے کہ سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے صاحبزادے مہدی رفسنجانی کو کرپشن الزامات کے تحت دس سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

ایران کے فارسی ذرائع ابلاغ نے مہدی ہاشمی کو دس سال کے لیے جیل بھجوانے کی خبر کو نمایاں انداز میں پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ جوڈیشل کونسل کے ترجمان مسٹر ایجی نے جرجان شہر میں جمعرات کے روز بتایا کہ مہدی کو اس کے کیس میں دس سال جیل بھجوایا گیا ہے۔ نیز مہدی ہاشمی کو دی گئی سزا کی اپیل کورٹ کی جانب سے بھی توثیق کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ مہدی ہاشمی رفسنجانی پر کرپشن، رشوت خوری اور کئی دوسرے الزامات کے تحت عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔

خامنہ ای اور رفسنجانی میں تلخ کلامی

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای اور گارڈین کونسل کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کے درمیان چند ہی روز بالواسطہ طورپر ایک دوسرے پر کڑی تنقید سامنے آئی تھی جس میں رفسنجانی نے سپریم لیڈر کو کھری کھری سنائی تھیں۔

ہاشمی رفسنجانی نے بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کو اعتدال پسند اور روشن خیال رہ نما کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی اورموجودہ برسراقتدار طبقے کو شدت پسند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ایران میں انتخابات کی بات کی جاتی ہے تو بعض لوگوں کے دل کانپ جاتے ہیں۔ یہی "بعض" لوگ ملکی امور میں کھلم کھلا مداخلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق پامال کرتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ عوام کے ووٹوں کو مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔ اللہ تعالیٰ عوام کے معاملے میں حکمرانوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتے گا۔ ایک ایک شخص کی مرضی اور رضا حاصل کرنا ضروری ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی معاف کردے"۔

ان کا اشارہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کی جانب تھا جن میں اصلاح پسند تحریک نے سابق صدر محمود احمدی نژاد اور سپریم لیڈر ایت اللہ علی خامنہ ای پرانتخابات میں دھاندلی کا الزام عاید کیا تھا۔

رفسنجانی کی تنقید کے جواب میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے چار جون کو امام خمینی کی برسی کےموقع پر کہا کہ "امام خمینی کی شخصیت، ان کے طریقہ کار اور صراط مستقیم کے بارے میں من گھڑت تصور پیش کرنا ایرانی قوم پر کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام خمینی کے طریقے پر انگلی اٹھانا حکومتی عہدیداروں، اہل فکرو دانش، انقلابیوں حتی کہ امام خمینی کے شاگردوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ اور وارننگ سے کم نہیں۔