.

ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر مذاکرات تعطل کا شکار

ماہ جولائی تک کی پہلی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر فریقین میں حتمی سمجھوتے کے لیے جاری مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکارہونے کی اطلاعات ہیں۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذاکرات معطل ہونے کے بعد حتمی معاہدے کے لیے طے شدہ ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کا امکان ہے۔

روسی خبر رساں ادارے "ایتارٹاس" نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری تنازع پر جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں جس کے بعد حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن میں ایک بار پھر توسیع کی جا سکتی ہے۔

سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کل جمعہ کے روز ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ عملا مذاکرات کا سلسلہ معطل ہے جس کے باعث ڈیڈ لائن خطرے میں ہے۔ تاہم امکان ہے کہ فریقین بات چیت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع پر متفق ہوسکتے ہیں۔

ادھر مذاکرات میں شامل روسی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سرگئی ریابکوف نے ایران اور مغرب میں مذاکرات میں تعطل پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کا "ٹال مٹول نہایت تشویشناک" ہے۔ یہ تعطل ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے جب ایران اور مغرب کے درمیان مذاکرات کے لیےحتمی معاہدے کی مہلت کو ختم ہونے میں صرف دو ہفتے کا وقت بچا ہے۔ اگر یہ دو ہفتے بھی بغیر کسی اہم پیش رفت کے گذر گئے تو معاملہ کوئی نئی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی "ریانوفوستی" کے مطابق سیرگی ریابکوف کا کہنا ہے کہ "ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام کے بارے میں جاری مذاکرات میں اس موڑ پرتعطل ہم سب کے لیے باعث تشویش ہے۔ فریقین کو ہرصورت میں طے شدہ وقت کے اندر اندر حتمی معاہدے تک پہنچنا چاہیے۔"

انہوں نے کہا کہ چار جون سے جاری مذاکرات کا ایک دور کل جمعہ کے روز بھی ہوا مگر بات چیت میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ مذاکرات کا عمل بہ تدریج آگے بڑھنا چاہیے۔ اس باب میں کسی قسم کی کوتاہی اور ٹال مٹول نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

قبل ازیں جمعرات کو فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مذاکرات کے حالیہ دور میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے تاہم بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

دوسری جانب عالمی توانائی ایجنسی میں ایران کے خصوصی ایلچی رضا نجفی کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں توقع ہے کہ جون کے آخر میں حتمی معاہدے کے لیے طے کردہ مہلت کے اندر ہی بات چیت کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر نجفی کا کہنا تھا کہ "ہم مذاکراتی عمل سے مایوس نہیں ہیں۔ بات چیت جاری ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ جون کے آخرمیں حتمی معاہدہ طے پاجائے گا۔"

ایک سوال کے جواب میں رضا نجفی نے کہا کہ ان کا ملک اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کو اعتماد میں لینے کے لیے شفاف اقدامات کرے گا۔ اپریل میں معاہدے کے جن نکات پر اتفاق کیا گیا تھا انہی کے مطابق بات چیت آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور عالمی مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت ایران کی فوج اور حساس نیوکلیئر تنصیبات کے معائنے اور ایرانی سائنس دانوں سے جوہری توانائی ایجنسی کے حکام کی ملاقات کے معاملے پر تعطل پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ ایرانی حکومت اہم فوجی تنصیبات تک عالمی معائنہ کاروں کو رسائی دینے کی یقینی دہانی کراچکی ہے تاہم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری سائنسدانوں کے ساتھ ملاقاتوں کی مخالفت کی ہے۔

خیال رہے کہ اپریل میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے لیے 30 جون کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی تاہم ان دو ماہ میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔امریکا اور اسرائیل سمیت کئی مغربی ملکوں کو شبہ ہے کہ ایران جوہری پروگرام پر معاہدے کی آڑ میں اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری بم تیار نہیں کررہا ہے۔