.

باغیوں کے اختلافات: جنیوا مذاکرات مؤخر ہونے کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے معزول صدر علی عبداللہ صالح اور شیعہ مسلک انتہا پسند حوثیوں کے درمیان ملکی بحران حل کے لئے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے ایجنڈے پر اختلاف ہو گیا۔

'العربیہ' ذرائع کے مطابق اسی اختلاف کے نتیجے میں باغی عبداللہ صالح اور حوثیوں کے وفد جنیوا نہیں گئے۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا طیارہ صنعاء سے صالح اور حوثیوں کے وفد کے بغیر روانہ ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق یمنی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود جنیوا پہنچ گئے۔ سولہ ملکوں کے سفیر بھی یمن بحران سے متعلق مذاکرات میں شرکت کے لئے جنیوا پہنچے ہیں۔

یمن میں 'فیصلہ کن طوفان' آپریشن کے ترجمان نے ہفتے کو بتایا تھا کہ جنیوا کانفرنس میں شرکت کے لئے صنعاء سے وفود کو لیکر جانے کے لئے اقوام متحدہ کا ایک طیارہ جیبوتی سے صنعاء پہنچا ہے، جہاں مذاکرات میں شرکت کے بعد ان وفود کو 19 جون کو واپس یمن لیجایا جائے گا۔

اس سے قبل عرب اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یمن کے لئے یو این کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے اتحادی فوج سے درخواست کی تھی وہ یمنی سیاسی رہنماوں کو جنیوا لیجانے کے لئے خصوصی طیارہ بھجیں۔

جنرل العسیری نے بتایا کہ یو این کے خصوصی ایلچی نے یمنی سیاسی قیادت کو جنیوا لیجانے کے لئے پہلے چودہ جون کو طیارہ فراہمی کی درخواست کی تھی، تاہم مذاکرات میں شرکت کے لئے آنے والے بعض وفود کی آمد میں تاخیر پر انہیں ایک دن کے لئے موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یو این ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے اس سے پہلے اتوار کے روز جنیوا میں سیاسی جماعتوں سے الگ الگ مذاکرات کرنے تھے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات تین دن جاری رہیں گے۔ ان میں یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کے علاوہ تنازع کے دوسرے فریق بھی شرکت کریں گے۔

خلیج تعاون کونسل وزرائے خارجہ نے سعودی دارلحکومت ریاض میں گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں یمن بحران کے حل کی خاطر جنیوا میں ہونے والے مشاورت کی مکمل تائید کی۔ انہوں نے یمن بحران حل کی خاطر طے پانے والے اعلان ریاض، یو این قرارداد 2216، خلیجی منصوبہ اور جامع قومی مذاکرات کے نتائج کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔