.

قطبی علاقوں میں سحرو افطار کے تعین کے لیےنئی سفارشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملک سویڈن میں مسلمانوں کی ایک نمائندہ مذہبی تنظیم نے قطب شمالی کے علاقوں میں مقیم مسلمانوں کے لیے ماہ صیام کے دوران سحر وافطار کے اوقات کے تعین کے لیے نئی سفارشات مرتب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قطب شمالی کے علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطاری کے اوقات میں کافی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر جب سورج کے طلوع اور غرب کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہو پاتا تو اس کے باعث سحری اور افطاری کے معاملے میں روزہ داروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں تنظیم نے روزہ داری کی معاونت کا فیصلہ کیا ہے اورعلماء کے مشورے سے نئی سفارشات مرتب کی جار ہی ہیں۔

خیال رہے کہ رمضان المبارک ممکنہ طورپر 18 جون سے شروع ہو رہا ہے۔ رمضان کے آغاز کے محض تین دن کے بعد سورج کی گردش تبدیل ہوجائے گی۔ موسم گرما کی وجہ سے سورج کے غروب ہونے کا وقت نہایت محدود ہوگا اور سحر وافطار کے تعین میں بھی مشکل پیش آئے گی۔

تنظیم کے ترجمان محمد حراکی کا کہنا ہے کہ "ہمارے سامنے قطب شمالی کے علاقوں کے رہنے والوں کے لیے دو اہم پیچیدگیاں ہیں۔ ہمیں سحری اور افطاری دونوں میں مشکل پیش آتی ہے۔ چونکہ سورج کے طلوع وغرب کا کوئی خاص وقت مقررنہیں اس لیے روزے کا وقت بھی بہت طویل ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ قطب شمالی کے علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کے کے سحرو افطار کے اوقات کے تعین کا معاملہ کئی سال سے علماء کے ہاں حل طلب ہے۔ اگرچہ پچھلے سال علماء نے تجویز دی تھی کہ قطب شمالی بالخصوص کیرونا کے مسلمان قطب جنوبی کے مسلمانوں کے اوقات کے مطابق سحرو افطار کا اہتمام کریں۔

یورپ کے قطب شمالی کے قریب ممالک میں قائم "یورپی فتاویٰ و ریسرچ" کونسل کی جانب سے بھی مسئلے کے حل کی کوشش کی گئی تھی۔ کونسل کی جانب سے گرمیوں کے طویل ایام میں روزے کی وجہ سے شہریوں کی بھوک اور پیاس کے تناظرمیں بھی سفارشات مرتب کی گئی تھیں، کیونکہ طویل روزے کے باعث روزہ داروں کے بھوک اور پیاس سے بے ہوش ہونے کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔