.

اقوام متحدہ نے جنیوا میں یمن مذاکرات کی تصدیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے سوموار 15 جون سے سوئس شہر جنیوا میں یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کردی ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوزی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم توقع کرتے ہیں کہ ہم ''جنیوا مشاورت'' کے لیے کل یہاں ہوں گے''۔قبل ازیں یمنی فریق اس خدشے کا اظہار کررہے تھے کہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں یہ مذاکرات ملتوی ہوسکتے ہیں۔

یمن کی سعودی دارالحکومت الریاض میں جلاوطن حکومت کے ایک ترجمان نے بھی ہفتے کے روز العربیہ نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ یہ مذاکرات ملتوی ہوسکتے ہیں۔راجح بادی نے یمنی دارالحکومت صنعا سے اقوام متحدہ کے پینل کے جنیوا کے لیے روانہ ہونے کے بعد کہا تھا کہ اس میں حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے نمائندے شامل نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''حوثی باغی اور علی صالح کے مندوبین اب پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنیوا مذکرات میں شرکت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں''۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ حوثیوں اور علی صالح کے نمائندوں میں امن مذاکرات کے ایجنڈے کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے حوثی وفد سوئس شہر جانے کے لیے طیارے میں سوار نہیں ہوا ہے۔ درایں اثناء العربیہ نیوز چینل نے یمن کی جلاوطن حکومت کے نمائندوں اور مختلف دھڑوں کے وفود کی مذاکرات کے لیے جنیوا آمد کی تصدیق کی ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اتوار کو جنیوا میں تنازعے کے متحارب فریقوں سے الگ الگ بات چیت کریں گے تاکہ انھیں ایک ہی میز پر اکٹھے بیٹھنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

اسماعیل ولد شیخ احمد گذشتہ چند ہفتوں سے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کے لیے کوشاں تھے اور انھوں نے صنعا میں حوثیوں اور الریاض میں یمن کے جلا وطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔اس کے علاوہ انھوں نے مذاکرات کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے خلیجی عرب ممالک کے دارالحکومتوں کے دورے بھی کیے ہیں۔

واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کا رکن اور یمن کا پڑوسی اومان ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔جی سی سی کے چھے رکن ممالک میں سے اومان واحد ملک ہے جو حوثیوں کے خلاف یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں فضائی مہم میں شریک نہیں ہے اور اس نے حوثی مخالف عرب اتحاد کے قیام کے وقت غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔