.

سعودی فوج کا یمن کے اندر ممنوعہ علاقے کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسزنے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے میزائل لانچروں کی تنصیب روکنے کے لیے یمن کے اندرکئی کلو میٹرپر محیط ممنوعہ فوجی علاقہ قائم کرنے کے بعد سرحدی علاقوں میں امن وامان بحال کرلیا ہے۔

سعودی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ایک ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ مسلح افواج نے یمن کی سرحد کے اندر "نوگو ایریا" قائم کیا ہے جس کا مقصد حوثیوں کی دراندازی اور میزائلوں کی تنصیب روکنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پرسیکیورٹی فورسز کی چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر نگرانی اور مسلسل گشت سے سعودی عرب کے سرحدی شہروں میں زندگی معمول پرآنا شروع ہوگئی ہے اور حالات کافی حد تک پرامن ہوگئے ہیں۔

سعودی سیکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یمن کے اندر حوثی باغی سرحد پار راکٹ حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ نصب کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حوثیوں کی کسی بھی قسم کی سرگرمی کو روکنے بالخصوص راکٹوں اور میزائلوں کی تنصیبات کےقیام کی کوششیں ناکام بنانے کے لیے زمین اور فضائی حملے ایک ساتھ جاری ہیں۔

یمن کے اندر ممنوعہ فوجی علاقے کے قیام کا مقصد ایک دفاعی حصار قائم کرنا ہے تاکہ حوثیوں کو سرحد سے دور رکھا جا سکے۔ ابتدائی طورپر حوثی باغیوں کو یمن کے اندر سعودی سرحد سے پانچ کلو میٹر دور تک روکا گیا ہے۔

ادھر گذشتہ روز سعودی عرب کی قیادت میں متحدہ افواج کے اپاچی ہیلی کاپٹروں نے حوثی ملیشیا اور منحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کے میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یمن کی سرحد کے قریب الحصام کے مقام پر قلعہ بند حوثیوں اور ان کے اسلحے کو جنگی طیاروں کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔

یمن کے شمالی علاقوں میں بھی باغیوں کے ٹھکانوں پر سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیاروں نے حوثیوں اور علی صالح کی وفادار ملیشیا کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ یمن میں حوثی باغیوں کی طرف سے بھی سرحد پار سے راکٹ داغے گئے ہیں تاہم راکٹ ویران صحرائی علاقے میں گرے ہیں جس کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے۔

سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یمن کے اندر ممنوعہ فوجی علاقہ قائم کرنے کے بعد سرحدی شہر جازان اور نجران میں زندگی اب معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور شہری بلا خوف وخطر اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔